جماعت اسلامی کا کسی سے ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان

الیکشن 2018 پر دھندلی کا بدنما داغ ہے، سراج الحق|HUMNEWS.PK

لاہور: جماعت اسلامی نے  پیپلز پارٹی اور نون لیگ سے کسی بھی قسم کی ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان کردیا ہے، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو کام کرنے دینا چاہتے ہیں، جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا تو خود میدان میں نکل آئیں گے۔

لاہورمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی ممبران کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن الیکشن 2018 پر دھاندلی کا بدنما داغ لگ گیا ہے، الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات دوسرے ادروں کو دیے جس کی وجہ سے یہ سب ہوا اور الیکشن متنازع بن گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت پاکستان کی ضرورت اور حقیقی جمہوریت کے ذریعے ہی پاکستان مستحکم اور خوشحال بن سکتا ہے، امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عمران کی حکومت کا امتحان اب شروع ہوا ہے،  ہم چاہتے ہیں کہ انہوں نے جس ایجنڈے کا اعلان کیا ہے اس پر عمل ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم کم وقت ہونے کی وجہ سے بیانیہ عوام تک نہیں پہنچا سکے تاہم کرپشن فری پاکستان مہم جاری رکھیں گے، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے  قبل قوم کو تفریق کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ میڈیا اور اداروں نے قوم، نون لیگ اور پی ٹی آئی میں تقسیم پیدا کرنے پر بھرپور کام  کیا۔

سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے شفاف احتساب کیا جائے،  پاکستان کی کرکٹ کے اشرافیہ کی بہت بڑی رقم  باہر کے بینکوں میں موجود ہے، اس کا بھی حساب لیا جائے اور سوئس بینکوں میں رکھی گئی لوٹی رقم واپس لائی جائے۔

امیر جماعت اسلامی  نے مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس میں ہونے والے اہم  فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کیا اور بتایا کہ الیکشن میں بدترین شکست پر جماعت نے کمیشن تشکیل دیا ہے جبکہ احتساب کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی، ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی الیکشن کمیشن کی فعالیت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔


متعلقہ خبریں