پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دینی تعلیم حاصل کرنے والے کم عمر طالب علم پر مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آگیا جہاں مدرسے کے قاری کے خلاف بچے کی بائیں آنکھ پر تشدد کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
بچے کے والد سید پرویز اقبال کی درخواست پر درج مقدمے میں قاری عبدالواحد کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی کا بیٹا عفان شاہ مدرسہ بیت المعمور میں دینی تعلیم حاصل کررہا ہے، جو صحافی کالونی، گیٹ نمبر 2 کے قریب واقع ہے۔
درخواست گزار کے مطابق 31 اکتوبر کو سہ پہر تقریباً 3 بجے اس کا بیٹا مدرسے سے واپس گھر آیا تو اس کی بائیں آنکھ بری طرح متاثر تھی۔ بیٹے سے آنکھ پر چوٹ لگنے کے بارے میں دریافت کیا، تاہم ابتدا میں بچے نے کچھ نہیں بتایا کیونکہ وہ بہت زیادہ ڈرا ہوا تھا۔ شام تقریباً 5 بجے جب بچہ کچھ سنبھلا تو اس نے والد کو بتایا کہ مدرسے کے استاد قاری عبدالواحد نے اس کی آنکھ پر ڈنڈا مارا اور اسے ڈرایا دھمکایا۔
درخواست گزار کے مطابق انہوں نے بیٹے کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال پہنچایا بعدازاں وہ تھانے پہنچے اور واقعے کے خلاف کارروائی کی درخواست دی۔
والد نے پولیس کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا کہ قاری عبدالواحد نے ان کے بیٹے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ گزشتہ روز شام 5 بج کر 30 منٹ پر درج کیا گیا جبکہ رپورٹ میں دفعہ 328 اے تعزیرات پاکستان کا اندراج کیا گیا ہے جس میں نامزد قاری عبدالواحد کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
