عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ہو گئی، برینٹ اور امریکی خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد کمی ہوئی۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی جبکہ حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم اب ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت کی امید پیدا ہونے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر 4.2 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔ جس کی بڑی وجہ امن مذاکرات میں پیش رفت کو قرار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مشرق وسطیٰ میں کسی بڑے فوجی تصادم کی اطلاع بھی سامنے نہیں آئی۔ جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور امریکا ایران معاہدے کی امیدیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انترمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں 4.41 ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 99.71 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اسی طرح برینٹ خام تیل 4.79 ڈالر یعنی 4.2 فیصد کمی کے بعد 108.64 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
دوسری جانب مربان خام تیل کی قیمت میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا اور اس کی قیمت 1.85 فیصد اضافے کے بعد 114.80 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مذاکرات کو جاری اور پیش رفت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران دفاع اور سفارت کاری دونوں کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کے خدشات بدستور موجود ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ادنوک کے سربراہ کے مطابق جنگ کے باعث عالمی ذخائر سے تقریباً ایک ارب بیرل خام تیل استعمال ہوچکا ہے۔
ادھر گولڈمین سیکس نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی خطے میں تیل کی پیداوار میں کمی برقرار رہی تو 2027 میں برینٹ خام تیل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
10 روز قبل آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکروں پر ایرانی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی تھی اور برینٹ خام تیل 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا تھا۔ جو رواں سال اپریل کے بعد اس کی بلند ترین سطح تھی۔



