وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم نے سیاسی دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، نیب نے مجھے وجہ بتائے بغیر گرفتار کیا، میرے اوپر کیا کیس تھا، یہ نہیں بتایا، 2020 میں پی ٹی آئی دور میں 6 ماہ نیب کی حراست میں رہا، مشرف دور میں اٹک قلعہ پر قید رہا، 4 بار جیل کاٹی ہے، انتقامی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔
سیالکوٹ میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں ہم نے 5 گنا بڑے دشمن کو شکست دی، بھارت سے جنگیں پہلے بھی ہوئیں مگر کوئی ابہام رہ جاتا تھا، معرکہ حق کے بعد خود ہندوستان کے رہنماؤں نے شکست تسلیم کی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 11 بار بھارتی شکست اور 70 بار بھارتی جہازوں کے گرنے کا کہہ چکے، خطے میں امن کیلیے فیلڈ مارشل کی قیادت میں کوششیں جاری ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی کوششوں سے ایران اورعرب ممالک کی دوری کم ہوئی، ہم نے اسلامی دنیا کو ایک راہ دکھائی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر آج جو مقام ملا ہے وہ 78 سال میں نہیں مل سکا تاہم ملک کے موجودہ نظام اور سیاسی حالات کی ذمہ داری سے سیاستدان خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ گزشتہ 70 برس کی قومی تاریخ میں ہونے والی ناکامیوں میں ہم سب کا حصہ ہے، خود کو بھی اس نظام سے الگ یا بے قصور نہیں سمجھتا۔
انہوں نے کہا کہ کئی بار لگا کہ سیاست کرکے تھک چکا ہوں۔ پرسوں مولانا سے اسمبلی میں ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا تھوڑا دم خم ہے، اسمبلی فلور پر کئی بار کہا کہ اپنا احتساب خود کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نوجوان اپنی صلاحیتوں اور ہنر کے ذریعے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ہنرمند اور تعلیم یافتہ نوجوان ہی ملکی ترقی کے ضامن ہیں۔ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلیے نوجوانوں کا بااختیار ہونا ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی آدمی ہوں لیکن درسگاہوں میں کبھی سیاسی گفتگو نہیں کرتا، سیاست کا آغاز کیا تو سیالکوٹ نے مجھے بہت عزت سے نوازا، 36 سال سے ملک کی خدمت کر رہا ہوں۔



