وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حنا جاوید قتل کیس پر ان کے خاندان کے تحفظات کے پیش نظر ’ایک اور کمیٹی سے تحقیقات کرانے‘ کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ ”پنجاب پولیس کا سب سے اچھا افسر اس معاملے کی تحقیقات کرے گا“۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ”روزانہ کی بنیاد پر قتل کے واقعات ہو رہے ہیں لیکن یہ الگ معاملہ ہے“۔ انہوں نے تفتش اور تحقیق پر مقتولہ کی فیملی کے تحفظات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ”فیملی کے تحفظات دور کرنے کے لیے ایک اور کمیٹی سے تحقیقات کروا لیتے ہیں۔“
45 سالہ حنا جاوید کو 10 اگست کو قتل کیا گیا جس کے الزام میں پولیس نے ان کے شوہر اصغر امام اور گھریلو ملازم کو گرفتار کیا گیا۔ 17 اکتوبر کو مقتولہ کے بھائی اور مقدمے کے مدعی فہد جاوید نے پولیس پر اہم شواہد نظراندز کر کے فیصل اصغر امام کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا۔
کمیٹی کے اجلاس کے دوران انسکپٹر جنرل ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) راولپنڈی بابر سرفراز الپاء اور ایس ایس پی (انویسٹی گیشن) سیف اللہ نے حنا جاوید قتل کیس پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آر پی او نے بتایا کہ کیس پر پہلے دن سے ایس ایس پی (انویسٹیگیشن) کی نگرانی میں کمیٹی کام کر رہی ہے جس نے جائے وقوعہ کی ویڈیوز بنائیں اور تمام شواہد اکٹھے کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کیس کی شفاف تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے جبکہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی ٹیم بھی اس کیس پر کام کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ حنا جاوید کے اہل خانہ پہلے ہی پولیس اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔
آر پی او کے بعد ایس ایس پی (انویسٹی گیشن) سیف اللہ نے بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملازم ذیشان 2 ماہ قبل اوپر والے پورشن میں رہتا تھا اور اس نے مقتولہ کی تمام تصاویر اپنے موبائل میں منتقل کی تھیں۔
اس پر کمیٹی کے سینئر رکن آغا رفیع اللہ ایس ایس پی برس پڑے اور کہا کہ ”شرم کریں، یہ تحقیقات کی ہیں آپ نے؟ آپ نے مقتولہ کو ملازم کے ساتھ جوڑ دیا۔“
یہ بھی یاد رہے کہ فہد جاوید کے مطابق ایف آئی آر میں فیصل اصغر امام، ان کے والد اور گھریلو ملازم ذیشان کے نام شامل تھے لیکن ان کے بقول تفتیش میں صرف ذیشان کو ہی ملوث قرار دیا گیا۔ دوسری جانب ذیشان کے والد کے بقول ان کا بیٹا بے گناہ ہے جسے پولیس نے تشدد کے ذریعے اعتراف جرم پر مجبور کیا۔
کمیٹی رکن آغا رفیع اللہ نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی لیول کا افسر ایسی غیر ذمہ دارانہ بات کیسے کر سکتا ہے؟ ”میں اس بیانیے کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ اس واقعے پر فوری جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور کیس کی تحقیقات سہیل ظفر چٹھہ کے حوالے کی جائیں۔“
جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ حنا کے بھائی فہد بھی کر چکے ہیں۔ 17 اکتوبر کو کی گئی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ”ان کا خاندان اعلیٰ سطح کمیٹی کی رپورٹ اور نتائج کو مسترد کرتا ہے اور فوری طور پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔“
’شواہد کے مطابق قاتل ملازم ہے‘
کمیٹی کو آن لائن بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر ان کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے نہ صرف مقتولہ کے اہلخانہ سے ملاقات کر کے ان کے تمام تحفظات نوٹ کیے بلکہ جائے وقوعہ اور مقتولہ کے سسر کے کمرے کا تفصیلی جائزہ بھی لیا، جبکہ خصوصی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں سپرنٹنڈنٹ کے کمرے اور جیل انتظامیہ کی موجودگی میں ملزمان ذیشان اور فیصل اصغر سے تفتیش کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اندوہناک واقعے میں قصوروار کسی بھی شخص کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔
تحقیقاتی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مقتولہ نے اپنے پورشن کو مکمل طور پر بند کیا ہوا تھا اور اندر جانے کا واحد راستہ کھڑکی تھی، تاہم ملازم نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک رات قبل پورشن کی کنڈی کھول دی تھی اور بعد میں مقتولہ کے کمرے میں داخل ہو کر پہلے انہیں قتل کیا اور پھر ریپ کا نشانہ بنایا۔
حنا قتل میں شوہر نہیں ملازم قصوار ہے۔۔۔
*ایڈیشنل آئی جی @CCD_Punjab سی سی ڈی سہیل ظفر چھٹہ @SZChatthaPSP کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں(حنا) قتل کیس میں آن لائن بریفنگ* https://t.co/rMkyugGfw0
— M.UsmanButt (@UsmanbuttJr) October 29, 2026
ان کے مطابق پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی بیڈ شیٹ، رسی اور ناڑا برآمد کر لیا ہے، جبکہ مقتولہ کے ڈی این اے کی رپورٹ سے ملزم ذیشان ارشد کے ڈی این اے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس کے علاوہ ظفر چٹھہ نے کہا کہ ملزم کے گلے پر موجود نشانات، کمرے کے کارپٹ سے ملنے والے فنگر پرنٹس اور 5 دن قبل سامنے والے اپارٹمنٹ سے چوری ہونے والا لائسنس شدہ پسٹل بھی ملزم ذیشان ارشد سے برآمد کر کے پولیس ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی نے مزید وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کی گردن سے فیصل اصغر کا ڈی این اے اس وجہ سے میچ ہوا کیونکہ واردات کے وقت استعمال ہونے والی بیڈ شیٹ فیصل اصغر کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ واردات کے فوری بعد ملزم ذیشان نے مقتولہ کے سسر کو فون کیا لیکن کال نہ اٹھانے پر فیصل اصغر کو کال کر کے گھر میں چوروں کے گھسنے اور حنا کے قتل کا ڈرامہ رچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں جب مقتولہ کے اہلخانہ موقع پر پہنچے تو ملازم نے دعویٰ کیا کہ فیصل اصغر نے اسے امریکہ بھجوانے کا جھانسا دے کر ایک لاکھ روپے کے عوض یہ قتل کروایا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے مطابق جب ملزم سے ان تمام حقائق پر تفتیش کی گئی تو اس وقت جیل انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر موجود تھیں۔
ہمیں کوئی فرانزک رپورٹ نہیں ملی، بہن
حنا جاوید کی بہن نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کا خاندان راولپنڈی پولیس کی تحقیقات سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق راولپنڈی پولیس کے افسران نے پہلے انہیں بتایا کہ فیصل اصغر کے خلاف بہت شواہد مل چکے اور وہ بچ نہیں سکتا جبکہ بعد میں حنا کے قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 19 شواہد ساتھ جا کر لاہور جمع کرائے لیکن فیصل اصغر کے کپڑوں کی رپورٹ سمیت کوئی بھی فرانزک رپورٹ نہیں ملی اور نہ ہی مقتولہ کے مسیجز دکھائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقتولہ کی گردن ٹوٹی ہوئی تھی اور کہنیوں میں سوراخ کیے گئے تھے تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکے۔
