حنا جاوید کی پراسرار موت کے معاملے پر اہل خانہ نے پنجاب پولیس کی تحقیقات مسترد کرتے ہوئے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
مقتولہ کے بھائی اور مقدمے کے مدعی فہد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ تحقیقات کے دوران اہم ڈی این اے شواہد کو نظرانداز کیا گیا اور مقدمے میں نامزد بعض افراد کو تحفظ فراہم کیا گیا۔
ہفتے کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فہد جاوید نے کہا کہ ان کے خاندان کا پولیس اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تحقیقات پر اعتماد ختم ہوچکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خاندان اب اس معاملے کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات چاہتا ہے تاکہ تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں حقائق سامنے آسکیں۔
فہد جاوید نے کہا کہ حنا جاوید 20 اگست کو اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائی گئی تھیں۔ ان کے بقول پولیس کی تحقیقات میں سامنے آنے والے فرانزک شواہد پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں جن کے جوابات تاحال خاندان کو نہیں مل سکے۔
ڈی این اے شواہد کے باوجود ملزم کو بے گناہ قرار دینے پر سوالات
فہد جاوید نے دعویٰ کیا کہ حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر امام کا ڈی این اے چار مقامات سے ملا، جن میں حنا کی گردن، بیڈ شیٹ اور دروازے کا لاک بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کسی شخص کا ڈی این اے مختلف مقامات سے ملنے کی اطلاع موجود ہو تو پولیس اسے تحقیقات میں کس بنیاد پر بے گناہ قرار دے سکتی ہے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان شواہد کے باوجود فیصل اصغر امام کا نام چالان میں شامل نہیں کیا گیا۔
فہد جاوید نے حنا کے سسر کرنل فیاض کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا کہ ان کا ڈی این اے حنا کی گردن سے ملا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس پہلو پر مزید تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کو تمام ڈی این اے رپورٹس اور دیگر فرانزک نتائج کی مکمل نقول فراہم کی جائیں تاکہ شواہد کی آزادانہ جانچ ممکن ہوسکے۔
’ملزم کے بجائے مہمان سمجھا گیا‘
فہد جاوید کے مطابق حنا جاوید نے قومی اسمبلی میں نو سال تک کام کیا تھا اور حال ہی میں انہیں ایوانِ صدر میں میڈیا ایگزیکٹو کی ملازمت ملی تھی تاہم وہ نئی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل ہی انتقال کرگئیں۔
واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 20 اگست کی صبح 6 بج کر 53 منٹ پر حنا کے سسر کرنل فیاض نے انہیں فون کرکے صورت حال کو ایک ’چھوٹی سی ایمرجنسی‘ قرار دیا۔
فہد جاوید کے مطابق جب وہ گھر پہنچے تو پولیس پہلے ہی وہاں موجود تھی اور حنا کی لاش باتھ روم میں لٹکی ہوئی تھی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ حنا کی گردن ٹوٹی ہوئی تھی، جبڑے پر چوٹیں تھیں اور کہنیوں پر بھی نشانات موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ فیصل اصغر امام اور ان کے والد نے ابتدا میں مؤقف اختیار کیا کہ دو چور گھر میں داخل ہوئے تھے اور حنا کو قتل کرکے فرار ہوگئے۔
فہد جاوید نے الزام لگایا کہ مقدمے کی تفتیش کے پہلے روز سے پولیس اور اعلیٰ سطح کمیٹی نے فیصل اصغر امام کے ساتھ مشتبہ شخص کے بجائے مہمان جیسا سلوک کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں فیصل اصغر امام، ان کے والد اور گھریلو ملازم ذیشان کے نام شامل تھے لیکن ان کے بقول پولیس نے اپنی توجہ صرف ذیشان پر مرکوز رکھی۔
فہد جاوید نے الزام عائد کیا کہ حنا کے سسر نے واقعے کو ڈکیتی کا رنگ دے کر اصل صورت حال چھپانے کی کوشش کی۔ انہوں نے راولپنڈی کے ریجنل پولیس افسر کی ایک سابقہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کا شبہ بھی سامنے آیا تھا۔
یہ تمام الزامات فہد جاوید نے پریس کانفرنس میں عائد کیے، ان کی آزادانہ تصدیق اور قانونی تعین متعلقہ شواہد اور عدالتی کارروائی سے ہونا باقی ہے۔
’حنا نے گواہ کو بتایا تھا کہ فیصل انہیں قتل کردیں گے‘
فہد جاوید نے تحقیقات میں ممکنہ شواہد کو نظرانداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حنا کی بڑی بہن نادیہ کے پاس ایسے ٹیکسٹ پیغامات اور وائس میسجز موجود تھے جن میں حنا نے اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل کا ذکر کیا تھا۔
ان کے مطابق تفتیشی اداروں نے نہ تو ان پیغامات کی مناسب جانچ کی اور نہ ہی نادیہ کا بیان باقاعدہ طور پر ریکارڈ کیا۔
فہد جاوید نے دعویٰ کیا کہ حنا کے موبائل فون سے تمام پیغامات حذف کردیے گئے اور اب تک خاندان کو یہ نہیں بتایا گیا کہ پیغامات کس نے اور کب ڈیلیٹ کیے۔
انہوں نے کہا کہ حنا کے موبائل فون اور فیصل اصغر امام کے لیپ ٹاپ سے متعلق فرانزک رپورٹس بھی تاحال موصول نہیں ہوئیں۔
فہد جاوید کے مطابق حنا نے اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل ایک خاتون سے ملاقات کی تھی اور اس کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی کے مسائل تفصیل سے بیان کیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ حنا نے اس خاتون سے کہا تھا کہ وہ فیصل کو ان باتوں کے بارے میں نہ بتائے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ فیصل انہیں قتل کردیں گے۔
فہد جاوید نے الزام لگایا کہ خاندان کی جانب سے بارہا درخواست کرنے کے باوجود پولیس نے مذکورہ خاتون کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔
فرانزک نتائج سے پہلے ہی شواہد کا دعویٰ کرنے کا الزام
مقتولہ کے بھائی نے مزید دعویٰ کیا کہ فیصل اصغر امام کے ایک رشتہ دار نے ایسے پیغامات بھیجے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ فرانزک نتائج آنے سے پہلے ہی یہ کہا جارہا تھا کہ شواہد گھریلو ملازم ذیشان کو ملوث کریں گے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب فرانزک رپورٹس سامنے نہیں آئی تھیں تو کسی شخص کو پہلے ہی کیسے معلوم ہوسکتا تھا کہ ان میں کیا نتائج سامنے آئیں گے؟
فہد جاوید نے کہا کہ اس معاملے کی بھی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ شواہد کے بارے میں قبل از وقت دعوے کس بنیاد پر کیے گئے۔
اہل خانہ کا اعلیٰ سطح کمیٹی پر عدم اعتماد
فہد جاوید نے کہا کہ ان کے خاندان نے ابتدا میں اس امید پر میڈیا کے سامنے آنے سے گریز کیا کہ حکام معاملے کی شفاف تحقیقات کریں گے۔
ان کے مطابق خاندان کو پولیس، نظام اور قانونی کارروائی پر اعتماد رکھنے کا کہا گیا تھا لیکن اب ان کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپیل کی کہ معاملے کی آزادانہ تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔
فہد جاوید نے کہا کہ ان کا خاندان اعلیٰ سطح کمیٹی کی رپورٹ اور نتائج کو مسترد کرتا ہے اور فوری طور پر جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
تینوں نامزد افراد کو چالان میں شامل کرنے کا مطالبہ
پریس کانفرنس میں فہد جاوید نے مطالبہ کیا کہ حنا جاوید کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔ ڈی این اے، فنگر پرنٹس، موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی تمام فرانزک رپورٹس خاندان کو فراہم کی جائیں۔
ایف آئی آر میں نامزد تینوں افراد کے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور انہیں چالان میں شامل کرنے سے متعلق شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے،
حنا کی بہن نادیہ اور دیگر متعلقہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔
موبائل فون سے پیغامات حذف کیے جانے اور فرانزک نتائج سے متعلق مبینہ پیشگی معلومات کے معاملے کی بھی تحقیقات کی جائیں۔
پریس کانفرنس میں شریک ایک اور شخص نے خواتین پر تشدد کے مقدمات میں پولیس کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملزم کی بے گناہی کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد پیش اور ان کا جائزہ لیے جانے کے بعد ہونا چاہیے۔
شرکا کا کہنا تھا کہ پولیس کو شواہد کی مکمل جانچ کے بغیر کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے۔فہد جاوید نے آخر میں کہا کہ ان کا خاندان چاہتا ہے کہ حنا جاوید کی موت کے معاملے کو آزادانہ عدالتی عمل کے ذریعے آگے بڑھایا جائے اور تمام دستیاب شواہد، فرانزک رپورٹس اور گواہوں کے بیانات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے کر انصاف فراہم کیا جائے۔



