راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں بیدردی سے قتل کی گئی حنا جاوید کے کیس میں پولیس نے ان کے شوہر اور گھریلو ملازم کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
45 سالہ حنا جاوید کی لاش جمعرات کی صبح لال کرتی کے اپارٹمنٹ کے باتھ روم سے اس حالت میں برآمد ہوئی تھی کہ “دونوں ہاتھ پیچھے کپڑے سے بندھے ہوئے، منہ پر کپڑا دیا ہوا، اور گردن میں لپٹی تار اوپر نہانے والے شاور سے بندھی ہوئی تھی۔”
واقعہ کی ایف آئی آر حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں تھانہ سول لائن میں درج ہوئی جس میں مقتولہ کے شوہر، سسر، اور گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا۔
Our sister Hina Javed was brutally murdered by her husband and in-laws two days ago. The father in law is still roaming around and has not been put under arrest. @MaryamNSharif please help bring the criminals to justice. #JusticeforHinaJaved pic.twitter.com/roFkUSrwYE
— Shahram Azhar (@ShahramAzhar) August 21, 2026
ایف آئی آر کے مطابق جب لاش برآمد ہوئی تو “اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا اور نیچے باتھ روم کے فرش پر بھی خون موجود تھا۔” لاش جمعرات کی صبح تب ملی جب حنا کے بھائی کو ان کے سسر نے کال کر کے بلایا کہ ایمرجنسی ہے، جب وہ ان کے گھر پہنچے تو باتھ روم میں اپنی بہن کو مردہ حالت میں دیکھا۔
ان کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ حنا جاوید کی شادی 9 ماہ قبل فیصل اصغر سے ہوئی تھی اور وہ “آئے روز مقتولہ حنا جاوید کونہ صرف تنگ کرتا تھا بلکہ سخت اذیتیں بھی دیتا تھا اور مار پیٹ کرتا تھا۔”
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ حنا جاوید کے شوہر فیصل اصغر کی یہ دوسری شادی تھی جبکہ اس کی پہلی بیوی نے بھی مبینہ گھریلو تشدد اور اذیتوں کے باعث طلاق لے لی تھی۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حنا جاوید کو ان کے شوہر، سسر اور گھریلو ملازم نے “انتہائی بے دردی اور بہیمانہ تشدد اور اذیتیں دے کر قتل کیا ہے”۔ قتل سے قبل حنا جاوید کو کوئی زہریلی چیز کھلائے جانے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان نے قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ حنا جاوید کا پوسٹ مارٹم کرایا جا چکا ہے اور رپورٹ کا انتظار ہے۔ جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
متاثرہ خاندان نے مقتولہ کے سسر اصغر علی کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کے مطابق اصغر علی مقدمے میں نامزد ہیں تاہم انہیں تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔
