وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے چھوٹے کاروباروں، کسانوں، برآمد کنندگان اور کم آمدن والے طبقات کو آسان مالی سہولتوں کی فراہمی مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرضوں کے ثمرات حقیقی مستحقین تک پہنچانا ضروری ہے۔
اسلام آباد میں وزیر خزانہ کی زیر صدارت رسائیِ مالیات اسٹیئرنگ کمیٹی کے چھٹے اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، زراعت، برآمدات، ہاؤسنگ اور وزیراعظم کی مختلف اسکیموں کے تحت سستے اور آسان قرضوں کی فراہمی میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 23 اکتوبر تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرضوں کا حجم 1148 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ چھوٹے کاروباروں کو مجموعی طور پر 538 ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کی گئی ہے۔
زرعی قرضے، لاکھوں کسان مستفید
اجلاس کو بتایا گیا کہ زرخیزِ آسان زرعی قرضہ اسکیم کے تحت 8 ارب 67 کروڑ 40 لاکھ روپے کے 20 ہزار 176 قرضوں کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے کسانوں کو 2 ارب 34 کروڑ روپے کے 6 ہزار 132 بلا ضمانت قرضے جاری کیے گئے۔
بریفنگ کے مطابق ملک میں زرعی قرضوں کا مجموعی حجم 1,329 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ تقریباً 35 لاکھ قرض دار اس سہولت سے مستفید ہوئے ہیں۔
وزیراعظم اپنا گھر پروگرام میں پیش رفت
اجلاس میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا، بریفنگ کے مطابق اس پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے 86 ہزار 896 قرضوں کی منظوری دی گئی جبکہ 91 ارب روپے کے 15 ہزار 584 قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ ملک میں ہاؤسنگ فنانسنگ کا مجموعی حجم 455 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور تقریباً 2 لاکھ 41 ہزار 500 افراد اس سے مستفید ہوئے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ہاؤسنگ فنانسنگ بالخصوص وزیراعظم اپنا گھر پروگرام میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرضوں کی فراہمی
اجلاس کو وزیراعظم کی پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن اسکیم کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ اسکیم کے تحت 3 ارب 6 کروڑ روپے کے 21 ہزار 918 قرضوں کی منظوری دی گئی ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی کے لیے ایک ارب 9 کروڑ 30 لاکھ روپے کے 5 ہزار 506 قرضے جاری کیے گئے جبکہ 3 ہزار 263 الیکٹرک گاڑیاں صارفین کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
وزیر خزانہ کی قرضوں کا عمل تیز کرنے کی ہدایت
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے متعلقہ مالیاتی اور سرکاری اداروں پر زور دیا کہ چھوٹے کاروباروں اور زرعی شعبے کے لیے قرضوں کی فراہمی میں مزید تیزی لائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ قرضوں کی منظوری اور اجرا کے مراحل کو مؤثر بنایا جائے تاکہ کاروباری افراد، کسانوں اور محروم طبقات کو مالی سہولتوں تک آسان رسائی حاصل ہو سکے۔
انہوں نے ڈیجیٹل قرضوں کے فروغ کے لیے محفوظ ڈیٹا شیئرنگ، صارفین کی رازداری کے تحفظ اور قرض لینے والوں کی مالی حیثیت جانچنے کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں اس امر پر توجہ دی گئی کہ آسان قرضوں کی اسکیموں کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ چھوٹے کاروباروں کی ترقی، زرعی پیداوار میں اضافے، گھر کی ملکیت کے مواقع اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں مدد مل سکے۔



