امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا نام تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے سپر انٹیلی جنس (ایس آئی) کہنے پر زور دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ڈیڈ لائن ڈاٹ کام کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ جلد سرکاری دستاویزات اور دیگر متعلقہ مواد میں ”آرٹیفیشل انٹیلی جنس“ کی اصطلاح کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا موجودہ نام غلط اور غیر موزوں ہے، اس لیے اسے ”سپر انٹیلی جنس“ کہا جانا چاہیے۔ انہوں نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل پر بھی زور دیا کہ وہ نئی اصطلاح استعمال کرے۔
When will The Wall Street Journal start calling Artificial Intelligence (AI), a very bad and inaccurate name, SI (Super Intelligence), the name which virtually everyone else is using, or soon will be. In short order, we will be officially BANNING the term, “AI/Artificial Intelligence,” in all relevant documents, and everything else, due to its inaccuracy. Thank you for your attention to this matter. President DONALD J. TRUMP
( TS: Oct 27 2026, 12:14 PM ET )
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) October 27, 2026
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس میں ایلون مسک سمیت ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ اہم شخصیات سے ملاقات کے دوران بھی ”سپر انٹیلی جنس“ کی اصطلاح پر زور دے چکے ہیں۔
امریکی صدر نے 29 ستمبر کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت وفاقی اداروں کو ”سپر انٹیلی جنس“ کی اصطلاح استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی۔ تاہم میڈیا ادارے اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بیشتر افراد اب بھی مصنوعی ذہانت کے لیے رائج اصطلاح ”اے آئی“ ہی استعمال کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر کے لیے عام عوام اور نجی میڈیا میں نئی اصطلاح کا استعمال لازمی قرار دینا محدود اختیارات کے باعث آسان نہیں۔ اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ”خلیج امریکہ“ نہ لکھنے پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو صدارتی کوریج سے خارج کردیا تھا۔
خبر رساں ادارے نے اس فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس پر ایک وفاقی جج نے ابتدائی طور پر قرار دیا کہ وائٹ ہاؤس کا اقدام ممکنہ طور پر امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل زیر سماعت ہے۔
واضح رہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے ممکنہ اثرات، ڈیٹا سینٹرز اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے متعلق عوامی خدشات بھی زیر بحث ہیں۔


