پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آن لائن بائیک سروس پر سفر کرنے والی خاتون نے مبینہ ہراسانی سے بچنے کے لیے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئی۔
واقعہ لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں 17 اکتوبر کو پیش آیا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی، ویڈیو میں خاتون کو موٹر سائیکل سے چھلانگ لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
مقدمہ متاثرہ خاتون کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ نواب ٹاؤن میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے جوہر ٹاؤن سے آن لائن بائیک سروس کے ذریعے رائیڈ بک کروائی تھی۔ مقدمے کے متن میں الزام عائد کیا گیا کہ ڈرائیور دورانِ سفر خاتون کو ہراساں کرتا رہا جس سے بچنے کے لیے خاتون نے چلتی موٹر سائیکل سے چھلانگ لگا دی۔
مقدمے کے مطابق چلتی موٹر سائیکل سے گرنے کے باعث خاتون کے منہ، ناک، گلے اور سر پر چوٹیں آئیں۔
ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق دورانِ رائیڈ لڑکی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والا ملزم واقعے کے بعد موقع سے فرار ہوگیا تھا تاہم پولیس نے اسے گرفتار کرلیا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات
صوبائی دارالحکومت لاہور میں خواتین کو ہراساں کرنے کے بڑھتے واقعات کے بعد پنجاب حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافروں کی حفاظت بہتر بنانے کے لیے اقدامات متعارف کرائے ہیں ۔
82 ہزار رکشوں، ٹیکسیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں کیو آر کوڈ پر مبنی پینک بٹن متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے خواتین ہراسانی یا کسی دوسرے خطرے کی صورت میں فوری مدد حاصل کر سکیں گی۔
حکام کے مطابق آن لائن کیب سروسز میں ٹریکنگ سسٹم بھی نصب کیا جا رہا ہے جبکہ مقررہ حفاظتی سہولیات فراہم نہ کرنے والی سروسز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) سید عبدالرحیم شیرازی نے بتایا کہ شہر کے 45 مقامات پر ٹریفک ٹیمیں کیو آر کوڈ پینک بٹن نصب کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہر ٹریفک سیکٹر میں ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں جبکہ رکشوں میں پینک بٹن نصب کرنے کے لیے 12 خصوصی ٹیمیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔
سی ٹی او نے کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو ضابطہ کار کے دائرے میں لانے اور مسافروں کی حفاظت بہتر بنانے کے لیے کیو آر کوڈ پینک بٹن کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق خواتین ہراسانی یا کسی دوسری ہنگامی صورتحال میں گاڑی پر نصب کیو آر کوڈ اسکین کرکے فوری مدد طلب کر سکیں گی۔


