وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خودکشی کرنے والے طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر خود جا کر لوٹی ہوئی رقم کا بڑا حصہ لواحقین کے حوالے کر دیا، جبکہ بقیہ رقم بھی جلد حوالے کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔
اسلام آباد میں خودکشی کرنے والی اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے اہلخانہ سے فراڈ کرنے والے ایجنٹ نے 72 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری خودکشی کرنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر پہنچے اور اہلخانہ سے ایک بار پھر تعزیت کی۔ انہوں نے لائبہ اعجاز کے والدین سے ملاقات کی اور انہیں مقدمے میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔ وزیر داخلہ نے مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور دُعائے مغفرت کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے جی ٹین اسلام آباد میں مرحومہ طالبہ لائبہ اعجاز کے اہل خانہ سے گھر جا کر تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ وزیر داخلہ نے لائبہ اعجاز کیس میں ہونے والی پیش رفت سے اہل خانہ کو آگاہ کیا اور کہا کہ اس کیس میں پوری ٹیم نے دن رات محنت کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ اہل خانہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ہمارا فرض تھا۔ مرحومہ لائبہ اعجاز کے والد نے وزیراعظم پاکستان اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، آج ہمیں اس کا یقین ہو گیا ہے۔ اس موقع پر چیف کمشنر اسلام آباد، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
@MohsinnaqviC42— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 21, 2026
اس موقع پر محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لائبہ اعجاز کیس میں پولیس اور متعلقہ ٹیم نے دن رات محنت کی۔ اور اہل خانہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ہمارا فرض تھا۔ جبکہ کیس میں ہونے والی پیش رفت سے والدین کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
لائبہ اعجاز کے والد رانا اعجاز نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، طلال چوہدری اور دیگر متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فراڈ کرنے والے ایجنٹ نے ان سے 72 لاکھ روپے لیے تھے، جن میں سے 50 لاکھ روپے واپس مل چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی بی ایس ڈگری میں گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکا جانا چاہتی تھی۔ اور اہلخانہ کے مطابق اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنا پلاٹ فروخت کر کے اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم 72 لاکھ روپے ایجنٹ کے حوالے کی تھی۔
اہلخانہ کا کہنا تھا کہ امریکا میں داخلے کی دستاویزات جعلی نکلنے پر لائبہ شدید ذہبی دباؤ کا شکار تھی جس کی وجہ سے اس نے 10 اکتوبر کو مبینہ طور پر خودکشی کی۔
پولیس کے مطابق فراڈ کرنے والا مرکزی ملزم آج صبح اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ ملزم کو سامان کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں گھات لگائے اس کے ساتھیوں نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ملزم مارا گیا، تاہم پولیس اہلکار بلٹ پروف جیکٹس اور حفاظتی اقدامات کے باعث محفوظ رہے۔
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم کی ہلاکت کے واقعے کی تفصیلات اور مقدمے میں مزید پیش رفت متعلقہ حکام کی تحقیقات سے واضح ہو گی۔ ملزم پر مزید 9 افراد کو سرکاری ملازمتوں کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے وصول کرنے کا بھی الزام تھا۔



