وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور حکومت کی جانب سے تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی گئی، لیکن انہوں نے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
ہم نیوزکے پروگرام ”ہم دیکھیں گے“ میں گفتگو کرتے ہوئے اختیارولی خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اگرخود گورنر خیبر پختونخوا بننا چاہیں تو اس بارے میں سوچا جاسکتا ہے، پیپلز پارٹی کو بھی گورنرشپ دینے پراعتراض نہیں ہوگا۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ تحریک انصاف مانگے تانگے کی جماعت ہے، لوگوں کو ادھر ادھر سے لاکر پی ٹی آئی بنائی گئی تھی، سہیل آفریدی کا کوئی پلان کسی کے پاس نہیں، کیونکہ ایسا کوئی پلان تھا ہی نہیں۔
انہوں نے شوکت یوسفزئی کے خط سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خط کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے والا اپنی حکومت اور سیاست کو تاریخ کے ردی دان میں پھینک چکا ہے۔
اختیار ولی خان نے علیم عادل سے منسوب بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی میں 70 فیصد کردار پی ٹی آئی کا ہے۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں سیکریٹری سے لے کر کمشنر اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) تک ایک نیکسس بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد اور خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے پاک کرنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ سیاسی کردار سے متعلق اختیار ولی خان نے کہا کہ مولانا کی اپنی سیاسی جماعت اور ان کی اپنی سیاسی جماعت ہے، دونوں کے نظریات الگ ہوسکتے ہیں تاہم دوقومی نظریے اور پاکستان سے محبت پر سب متفق ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان مثبت سیاسی کردار ادا کریں۔
اختیار ولی خان کے مطابق مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا خود گورنر خیبر پختونخوا بننا چاہیں تو اس تجویز پر غور کیا جاسکتا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کو بھی یہ عہدہ دینے پر اعتراض نہیں ہوگا۔
تحریک انصاف کے سابق دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ پارٹی نے 50 لاکھ گھر بنانے اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کے دعوے کیے تھے، لیکن نہ کسی گورنر ہاؤس پر بلڈوزر پھیرا گیا اور نہ ہی امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کیا گیا۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کا قیام، دہشت گردی کا خاتمہ اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ان کی ترجیحات میں شامل ہیں، سیاسی جماعتوں کو صوبے میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔



