اسرائیل کے شہر تل ابیب سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا جانے والی آسٹرین ایئرلائنز کی پرواز میں بم کی دھمکی موصول ہونے پر طیارے کو بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں ہنگامی لینڈنگ کرا دی گئی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹرین ایئرلائن کے ترجمان نے بتایا کہ طیارے میں 51 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے۔ طیارہ مقامی وقت کے مطابق رات 8 بج کر 42 منٹ پر بحفاظت لینڈ کر گیا۔
ایئرلائن نے بتایا کہ مسافروں اور سامان کے علاوہ طیارے کی اسکینگ میں 5 گھنٹے سے زائد وقت لگا جس کے بعد پرواز کلیئر کر دی گئی۔ جس کے بعد پرواز ویانا کیلئے روانہ ہو گئی۔
فضائی پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے ڈیٹا کے مطابق طیارے کا رجسٹریشن نمبر OE-LZE تھا اور وہ تل ابیب سے ویانا جا رہا تھا، تاہم اس کا رخ صوفیہ کی جانب موڑ دیا گیا۔
Threat forces Israel to Austria flight into emergency landing https://t.co/KVMA1Tzejf
— BBC News (World) (@BBCWorld) October 19, 2026
اسکائی نیوز نے بلغاریہ کی وزارت ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ رومانیہ کی سرحد کے قریب پرواز کے دوران عملے نے بم کی دھمکی سے متعلق اطلاع دی، جس کے بعد طیارے کو ہنگامی طور پر صوفیہ میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بلغاریہ کی فضائیہ کے ایک لڑاکا طیارے نے صوفیہ میں لینڈنگ تک مسافر طیارے کے ساتھ پرواز کی، بعد ازاں مسافروں کو طیارے سے اتار لیا گیا۔
یہ واقعہ گزشتہ منگل کو نیویارک سے آنے والی ڈیلٹا ایئرلائنز کی پرواز کو بم کی دھمکی ملنے کے واقعے کے بعد پیش آیا، جس نے اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی تھی۔
نامعلوم شخص کی جانب سے دھمکی موصول ہونے کے بعد مسافروں کو طیارے سے بحفاظت نکال لیا گیا اور تلاشی کے لیے طیارے کو ایک الگ مقام پر منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں سکیورٹی جانچ پڑتال میں تصدیق ہوئی کہ یہ اطلاع جھوٹی تھی۔


