پاکستانی فری لانسرز نے ستمبر 2026 میں ملکی تاریخ کی بلند ترین ماہانہ برآمدی آمدن حاصل کرتے ہوئے 19 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ کمایا، جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی آمدن 55 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اگست 2026 کے مقابلے میں ماہانہ بنیاد پر آمدن 11 فیصد بڑھی۔
پہلی سہ ماہی میں فری لانسرز کی آمدن 550 ملین ڈالر
جولائی سے ستمبر 2026 تک رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر 55 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔
فری لانسنگ کے شعبے میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر آن لائن خدمات کے ذریعے عالمی مارکیٹ سے آمدن حاصل کی جاتی ہے۔ اس شعبے میں پاکستانی ہنرمند افراد بیرون ملک کمپنیوں اور انفرادی صارفین کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔
گزشتہ مالی سال بھی ریکارڈ آمدن حاصل ہوئی
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے مجموعی طور پر ایک ارب 76 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ کمایا تھا۔
ڈیجیٹل معیشت میں فری لانسنگ کی اہمیت
فری لانسرز کی برآمدی آمدن میں اضافے کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ملک کو غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اور عالمی سطح پر ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کے مواقع بڑھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق فری لانسنگ کے شعبے کی مزید ترقی کے لیے ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافے، قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، ادائیگیوں کے مؤثر نظام اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو بہتر بنانا اہم ہے۔


