خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رواں سال 2026 کا آٹھواں پولیو کیس رپورٹ ہوگیا جس کے بعد ملک بھر میں رواں سال سامنے آنے والے پولیو کیسز کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (نیشنل ای او سی) کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر سے رواں سال کا آٹھواں پولیو کیس سامنے آیا ہے، پاکستان میں اب تک رپورٹ ہونے والے 8 کیسز میں سے 6 کا تعلق خیبر پختونخوا جبکہ 2 کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔
نیشنل ای او سی کا کہنا ہے کہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے، تاہم بروقت ویکسینیشن کے ذریعے بچوں کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
والدین اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر انسداد پولیو مہم کے دوران ویکسین کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے بچایا جاسکے۔
دوسری جانب ملک بھر میں انسداد پولیو کی ذیلی قومی مہم کل سے شروع ہوگی، جو 2 سے 8 نومبر 2026 تک جاری رہے گی۔
اس مہم کے دوران ملک کے 97 منتخب اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق مہم کے دوران پولیو ٹیمیں گھر گھر جاکر بچوں کو ویکسین پلائیں گی، جبکہ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہنے دیں۔
نیشنل ای او سی نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے ساتھ ان کا حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس بھی مقررہ وقت پر مکمل کروائیں تاکہ انہیں دیگر خطرناک بیماریوں سے بھی محفوظ رکھا جاسکے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے معاشرے کے تمام طبقات، علمائے کرام، اساتذہ، سماجی رہنماؤں اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردارادا کریں اور ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنانے میں تعاون کریں۔
واضح رہے کہ پولیو ایک متعدی وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو عموماً پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے اوراس کے نتیجے میں مستقل معذوری بھی ہوسکتی ہے، اس مرض کا کوئی علاج نہیں، تاہم ویکسین کی بار بار خوراک بچوں کواس سے محفوظ رکھنے کا مؤثرذریعہ ہے۔



