بالی ووڈ کے نامور اداکار نانا پاٹیکر کی موت پر اداکارہ تنوشری دتہ کے متنازع ریمارکس کے بعد ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے خاموشی توڑتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملہار پاٹیکرنے کہا کہ خاندان اس وقت صدمے اورغم سے گزر رہا ہے، ایسے میں کسی کی موت پرتوہین آمیز تبصرے کرنا انسانیت کے خلاف اور انتہائی افسوسناک ہے۔
ملہار پاٹیکر نے اپنے والد کی موت کے بعد تنوشری دتہ کی جانب سے مسلسل سامنے آنے والے متنازع بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کا نام لیے بغیر صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ لوگ می ٹو (Me Too) کے اس معاملے کوغیرضروری طور پراچھال رہے ہیں جو پہلے ہی ختم ہوچکا ہے۔
ملہار پاٹیکر کا کہنا تھا کہ ان کے والد عدالت سے بری ہوچکے تھے اور مقدمہ ختم ہوگیا تھا، اس کے باوجود اس معاملے پر دوبارہ بات کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے، حقیقت اپنی جگہ قائم رہے گی اور خدا ایسے لوگوں کا بھلا کرے۔
واضح رہے کہ نانا پاٹیکر کی موت کے بعد اداکارہ تنوشری دتہ نے سوشل میڈیا پر متعدد متنازع پوسٹس شیئر کی تھیں۔ ان پوسٹس میں انہوں نے اداکار کی موت کو اپنی زندگی کا ایک مثبت موڑ قرار دیا تھا اور ان کے لیے ’شیطان مرگیا‘ جیسے سخت الفاظ بھی استعمال کیے تھے۔
رپورٹس کے مطابق تنوشری دتہ نے ایک پوجا کے دوران بھی نانا پاٹیکر کے خلاف سخت الفاظ کہے تھے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی۔
تنوشری دتہ ماضی میں نانا پاٹیکر پر ہراسانی کے الزامات عائد کرچکی ہیں، جس کے بعد بالی ووڈ میں می ٹو مہم کے دوران یہ معاملہ خاصی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ اب نانا پاٹیکر کے بیٹے کے تازہ بیان کے بعد یہ پرانا تنازع ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔
سوشل میڈیا پر مداحوں اور فنکاروں کی آرا تقسیم دکھائی دے رہی ہیں۔ بعض افراد ملہار پاٹیکر کے دکھ اور غم سے ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں جبکہ دیگر تنوشری دتہ کے سابقہ الزامات اور ان کے مؤقف پر گفتگو کررہے ہیں۔
نانا پاٹیکر کا انتقال کیسے ہوا؟
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 75 سالہ اداکار نانا پاٹیکر 8 اکتوبر کی صبح گوا میں کارڈیک اریسٹ کے باعث انتقال کرگئے تھے، انہیں بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔
نانا پاٹیکر کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ سوگوار ہیں تاہم تنوشری دتہ کے متنازع ریمارکس اور ملہار پاٹیکر کے جواب نے بالی ووڈ میں می ٹو تنازع کو دوبارہ زندہ کردیا ہے۔



