اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے مزید تین ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہوئے انہیں پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ پروڈکشن آرڈرز کے مطابق میاں غوث محمد، عادل خان بازی اور محمد جمال احسن خان کو قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں شرکت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ تینوں ارکان اس وقت پنجاب پولیس کی تحویل میں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق میاں غوث محمد قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 170، عادل خان بازی حلقہ این اے 262 جبکہ محمد جمال احسن خان حلقہ این اے 89 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
اجلاس کے بعد دوبارہ تحویل میں دینے کی ہدایت
پروڈکشن آرڈرز میں ہدایت کی گئی ہے کہ تینوں ارکان کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پیش کیا جائے اور اجلاس کے اختتام کے بعد انہیں دوبارہ متعلقہ حکام کی تحویل میں دے دیا جائے۔
قومی اسمبلی کے قواعد کے تحت جاری کیے گئے احکامات میں تینوں ارکان کے لیے پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دینے کی ہدایت بھی شامل ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کے اس اقدام کا مقصد زیرِ حراست ارکان کو پارلیمانی کارروائی میں شرکت کا موقع فراہم کرنا ہے۔
گزشتہ روز بھی دو ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق 14 اکتوبر کو اسپیکر سردار ایاز صادق نے ثناء اللہ خان مستی خیل اور داوڑ خان کنڈی کے پروڈکشن آرڈر قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور طریقِ کار 2007 کے قاعدہ 108 کے تحت جاری کیے تھے۔
ان احکامات کا مقصد دونوں ارکان کی جاری اجلاس میں شرکت یقینی بنانا تھا۔ واضح رہے کہ ان دونوں ارکان کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے باوجود اسمبلی اجلاس میں نہیں لایا گیا۔
اسپیکر آفس نے پروڈکشن آرڈرز کی نقول متعلقہ حکام کو ارسال کرتے ہوئے ارکان کو ایوان میں پیش کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی تھی۔
پی ٹی آئی نے 9 ارکان کے پروڈکشن آرڈر مانگے تھے
اس معاملے کا پس منظر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے 13 اکتوبر کو اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ کر زیرِ حراست 9 ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست کی تھی، تاکہ وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر سکیں۔
پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ زیرِ حراست ارکان کو پارلیمانی کارروائی میں شرکت کا موقع ملنا چاہیے اور ان کے حلقوں کی نمائندگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
پروڈکشن آرڈر کیا ہوتے ہیں؟
قومی اسمبلی کے قواعد کے تحت اسپیکر کسی رکن کی ایوان میں موجودگی ضروری سمجھنے پر متعلقہ حکام کو اسے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد رکن کو پارلیمانی کارروائی میں شرکت کا موقع فراہم کرنا ہے۔
زیرِ حراست ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی قانونی تحویل یا مقدمات خودبخود ختم ہوگئے ہیں، احکامات کا بنیادی مقصد اجلاس میں ان کی شرکت یقینی بنانا ہے۔



