وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو قائل کرنے میں ناکام رہے، مذاکرات اور دھمکیاں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آخری وقت میں مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی اور بقول مولانا فضل الرحمان نے معاملات تقریباً طے ہو گئے تھے لیکن آخری وقت میں حکومت کی جانب سے بیانیہ تبدیل کر دیا گیا۔
ہم نیوز کے پروگرام کوئسچن آور میں گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خواہش تھی کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل ہوں اور انہوں نے 2 سے زائد مرتبہ اپوزیشن لیڈر کو مذاکرات کی دعوت بھی دی۔ جبکہ ہم اپوزیشن لیڈر سے ملے اور معاملات حل کرنے کی کوشش بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری رہیں۔ صوبائی حکومت کو بار بار کہا دہشتگردی کے خلاف اقدامات کیے جائیں، اور مذاکرات میں شریک پی ٹی آئی کے لوگ معاملات کا حل بھی چاہتے تھے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ ہم نے ان سے کہا دہشتگردی کے خاتمے کے لیے 7 نکات پر عملدرآمد کی ضرورت ہے تو انہوں نے کہا صوبے اور ملک کی بہتری کے لیے 8 نکات پر عمل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق ہم پہلے سے بات کر رہے تھے اور موجودہ صورتحال میں اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا۔ جبکہ گزشتہ دنوں کہا بھی تھا کہ اگر ایمرجنسی لگی تو صوبائی حکومت کے رویئے کے باعث لگے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور رانا ثنا اللہ کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور ان سے سیاسی پہلو پر بات چیت بھی ہوئی۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان نے آمادگی کا اظہار کیا کہ وہ معاملات کے حل کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اور اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اور وزیراعظم کی بھی ملاقات ہوئی، جس میں وزیراعظم نے کہا پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کر کے مذاکرات کی طرف آجائے تو بانی سے ملاقات مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا جیل مینوئل کے مطابق ملاقات کرائی جائے گی تاہم مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کو قائل کرنے میں ناکام رہے۔ یہاں مذاکرات اور دھمکیاں ایک ساتھ تو نہیں چل سکتے۔
‘مولانا فضل الرحمان آج بھی گارنٹی دیں تو ملاقات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہیں’
طارق فضل چودھری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان آج بھی گارنٹی دیں کہ جو بات ہم نے پہلے کی ہوئی ہے اس پر تحریک انصاف کی لیڈر شپ آتی ہے تو ہم ایمرجنسی کے نفاذ کو معطل کر کے دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری لانگ مارچ کو ہینڈل کرنے کی پوری تیاری تھی جبکہ ہم صرف تحریک انصاف سے دہشتگردی پر تعاون چاہتے تھے لیکن یہ لوگ تو دہشتگردی کی مذمت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔



