امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات مسائل کا حل نہیں ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کردیے ہیں، جس کے تحت امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دی گئی۔
حافظ نعیم الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پراپنے بیان میں کہا کہ جب اقتدار میں موجود قوتیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کریں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ ان کی حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل ایسے اقدامات کے بجائے جمہوری اصولوں اور سیاسی عمل میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں شامل جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہیں ،یہ مسائل کا حل نہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) October 11, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم جماعتوں نے رجیم چینج کے وقت سے جو تماشا شروع کیا تھا، جمہوریت دشمنی کا وہ سفر آج تک جاری ہے۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیاسی تاریخ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں جماعتوں کی تاریخ گورنر راج نافذ کرنے اور عوامی مینڈیٹ تسلیم نہ کرنے کی تاریخ ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا نظام پوری طرح ناکام ہو گیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کے بیان میں خیبرپختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر تحفظات کا اظہارکیا گیا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات سیاسی بحران میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے سیاسی مسائل کا حل جمہوری طریقے سے نکالنا ضروری ہے۔



