وزیراعظم شہباز شریف نے ائیر پورٹس پر مسافروں کو بلاوجہ تنگ کرنے پر پابندی عائد کر دی۔
وزیراعظم نے ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر مسافروں کو درپیش مشکلات ختم کرنے اور سفر کو آسان بنانے کے لیے فوری اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم نے ایئرپورٹس پر جدید اسمارٹ اسکینرز فوری نصب کرنے اور مسافروں کے سامان کی جانچ کے لیے روایتی طریقہ کار ختم کرکے خودکار نظام متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسمارٹ اسکینرز فوری طور پر فضائی راستے سے پاکستان منگوائے جائیں اور ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر نصب کیے جائیں تاکہ سامان کی جانچ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جا سکے اور مسافروں کو غیر ضروری پوچھ گچھ اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اسلام آباد میں کسٹمز کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور ملک کے دیگر مقامات پر سامان کی آمدورفت، کسٹمز کی نگرانی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
مسافروں کو بلاوجہ تنگ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کی جانچ کے لیے فرسودہ طریقہ کار ترک کرنا ہوگا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق خودکار نظام اپنانا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسافروں کی سہولت اور آرام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی مسافروں کو بلاوجہ تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم نے کسٹمز حکام کو مسافروں سے غیر ضروری پوچھ گچھ کرنے سے روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جدید اسمارٹ اسکینرز کے ذریعے سامان کی جانچ کی جائے، تاکہ مسافروں کو بار بار سوالات اور غیر ضروری کارروائیوں سے بچایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر رائج جدید نظام اپنانا ضروری ہے۔
ائیر پورٹ عملے کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت کا فیصلہ
وزیراعظم نے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو سہولیات فراہم کرنے والے عملے کی تربیت بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ سروس ڈلیوری کے دوران شائستگی، خوش اخلاقی اور انسانی احترام کو تربیت کا بنیادی حصہ بنایا جائے تاکہ پاکستان آنے اور یہاں سے بیرون ملک جانے والے مسافروں کو بہتر تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
وزیراعظم کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ عملے کے رویے اور خدمات کے معیار میں بہتری لانا بھی ضروری ہے۔
کسٹمز کے نئے انفورسمنٹ نظام کو سراہتے ہوئے ٹیکس چوری کے خلاف کارروائیوں کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے کسٹمز کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے انفورسمنٹ نظام کو سراہتے ہوئے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ائیرپورٹس پر مسافروں کو درپیش مشکلات کو ختم کرنے اور انکے لئے سفر میں مزید سہولت پیدا کرنے کیلئے اقدامات کی منظوری دے دی. وزیرِ اعظم کی ائیرپورٹس پر فوری اسمارٹ اسکینرز نصب کرنے کی ہدایت.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ کسٹمز حکام کی بجائے اسمارٹ اسکینرز سے سامان کی جانچ کی جائے. وزیرِ اعظم نے کسٹمز حکام کی جانب سے مسافروں کو بلا ضرورت پوچھ گچھ سے تنگ کرنے سے روکنے کے احکامات جاری کر دیئے. وزیرِ اعظم نے اسمارٹ اسکینرز کو فوری طور پر فضائی راستے سے پاکستان برآمد کرکے تمام بین لاقوامی ائیر پورٹس پر نصب کرنے کی ہدایت کر دی.
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کی جانچ کیلئے فرسودہ طریقہ کار ترک کرنا ہوگا. مسافروں کی سہولت اور آرام اولین ترجیح ہے، کسی کو بھی مسافروں کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے. مسافروں کے سامان کی جانچ کیلئے بین الاقوامی سطح پر رائج خود کار نظام لایا جائیگا. ہوائی اڈوں پر دیگر سہولیات کیلئے تعینات اسٹاف کی بھی بین الاقوامی طرز پر تربیت کی جائیگی. سروس ڈلیوری میں شائستگی اور انسانی احترام کا عنصر ٹریننگ کا کلیدی جزوو بنایا جائے.
وزیرِ اعظم نے کہا کہ کسٹمز کی جانب سے انفورسمنٹ کا نیا نظام لائق تحسین ہے، چیئرمین ایف بی آر اور انکی ٹیم کو اسکا سہرا جاتا ہے. محصولات کی چوری روکنے کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے. ٹیکس ادا کرنے والے کاروبار قابل احترام ہیں، ٹیکس چوری کرنے والوں کیلئے نو ٹالرینس پالیسی پر عمل پیرا ہونگے. غریب عوام کے پیسے کے امین ہیں، اسکی حفاظت کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے.
وزیرِ اعظم کی زیر صدارت کسٹمز کے نظام ہر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سمیت ملک کے مختلف مقامات پر سامان کی آمدو رفت اور کسٹمز کی نگرانی پر جائزہ پیش کیا گیا. اجلاس کو کسٹمز کی انفورسمنٹ فورس کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی.
اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹمز انفورسمنٹ کے تحت ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام اور عملی فعالیت میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انڈس کلکٹریٹ (انفورسمنٹ) نے اپنے قیام کے ابتدائی تین ہفتوں میں 80 کارروائیوں کے دوران تقریباً 20 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی اشیاء ضبط کیں، جبکہ 865 اہلکار تعینات کیے گئے اور 26 اہم راہداریوں کا احاطہ کیا گیا۔
مزید بتایا گیا کہ اسمگل شدہ کپڑے، گاڑیاں، سگریٹس، ہائی اسپیڈ ڈیزل، آٹو پارٹس اور دیگر اشیاء کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ دوسری جانب کسٹمز کے شعبے میں اصلاحات کے تحت 280 گڈز ایویلیوٹرز کی بھرتی مکمل کر لی گئی ہے، جن کی تربیت اکتوبر اور نومبر 2026 میں ہوگی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر کی جانب سے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں کسٹمز انفورسمنٹ کے نظام کو یکجا کرتے ہوئے ملک بھر میں ایک مربوط ادارہ قائم کیا گیا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، ارکان قومی اسمبلی عثمان اویسی، رانا ارادت شریف خان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) October 10, 2026
انہوں نے کہا کہ محصولات کی چوری روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری ادارے قابل احترام ہیں تاہم ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت غریب عوام کے پیسے کی امین ہے اور قومی وسائل کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
کسٹمز انفورسمنٹ کی 80 کارروائیاں، 20 کروڑ 50 لاکھ روپے کی اشیا ضبط
اجلاس کے دوران کسٹمز انفورسمنٹ فورس کی کارکردگی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈس کلکٹریٹ (انفورسمنٹ) نے قیام کے ابتدائی تین ہفتوں کے دوران 80 کارروائیاں کرتے ہوئے تقریباً 20 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی اشیا ضبط کیں۔
بریفنگ کے مطابق انفورسمنٹ کے لیے 865 اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ 26 اہم راہداریوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ اسمگل شدہ کپڑے، گاڑیوں، سگریٹس، ہائی اسپیڈ ڈیزل، آٹو پارٹس اور دیگر اشیا کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات پر بریفنگ
اجلاس میں وزیراعظم کو پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
حکام نے ملک کے مختلف مقامات پر سامان کی آمدورفت کی نگرانی، کسٹمز انفورسمنٹ فورس کی کارکردگی اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات پیش کیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام اور انہیں فعال بنانے کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس کا مقصد کسٹمز کی نگرانی اور اسمگلنگ کی روک تھام کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
کسٹمز اصلاحات، 280 گڈز ایویلیوٹرز کی بھرتی مکمل
کسٹمز کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ 280 گڈز ایویلیوٹرز کی بھرتی مکمل کر لی گئی ہے، جن کی تربیت اکتوبر اور نومبر 2026 میں ہوگی۔
حکام کے مطابق ایف بی آر کی اصلاحات کے تحت کسٹمز انفورسمنٹ کے نظام کو یکجا کرکے ملک بھر میں ایک مربوط ادارہ قائم کیا گیا ہے تاکہ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں رابطہ کاری بہتر بنائی جا سکے اور نفاذِ قانون کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔
ان اقدامات کا مقصد کسٹمز کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، غیر قانونی تجارت کی روک تھام اور قومی محصولات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ اور شزہ فاطمہ خواجہ نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، ارکان قومی اسمبلی عثمان اویسی اور رانا ارادت شریف خان سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں کسٹمز کے نظام کو جدید بنانے، اسمگلنگ کی روک تھام، قومی محصولات کے تحفظ اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کسٹمز کے نظام میں اصلاحات کے ساتھ مسافروں کی عزت و احترام اور سہولت کو یقینی بنایا جائے، جبکہ ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں۔



