وفاقی آئینی عدالت نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ (ای او بی آئی) کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ، وفاقی محتسب اور صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری احکامات کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنشن کی قانونی اہلیت کے تقاضے نظرانداز کرکے کسی شخص کو پنشن دینے کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کے تحریر کردہ 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ وفاقی محتسب پنشن کی اہلیت طے کرنے کے لیے قانون میں مقرر طریقہ کار کو نظرانداز نہیں کرسکتا، محض اس بنیاد پر کہ ای او بی آئی نے پنشن کی درخواست مسترد کردی، اسے بدانتظامی قرار دے کر محتسب کا دائرۂ اختیار وسیع نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت کے مطابق پنشن کی درخواست مسترد ہونا بذاتِ خود بدانتظامی نہیں، بدانتظامی ثابت کرنے کے لیے من مانی، امتیازی سلوک، غفلت یا بلاجواز تاخیر جیسے عناصر کا موجود ہونا ضروری ہے، قانون کے لازمی تقاضے پورے کرنے کی کوشش میں کسی درخواست گزار کو نقصان پہنچنا بھی خود بخود بدانتظامی کے زمرے میں نہیں آتا۔
درخواست گزار کو پنشن کیوں نہیں ملی؟
مقدمے کا تعلق جاوید اقبال بھٹی سے ہے، جنہوں نے ای او بی آئی سے اولڈ ایج پنشن کا مطالبہ کیا تھا، ریکارڈ کے مطابق ان کی بیمہ شدہ ملازمت کا عرصہ چھ سال سے بھی کم تھا۔
وفاقی محتسب کی 2023 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق بھٹی کا بیمہ شدہ سروس ریکارڈ مختلف تصدیقات کے بعد محدود مدت کا نکلا اور ای او بی آئی نے انہیں پنشن کے بجائے 48 ہزار روپے کی اولڈ ایج گرانٹ ادا کی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ پہلے ادا کی جانے والی 48 ہزار روپے کی اولڈ ایج گرانٹ سے ماہانہ پنشن کا مستقل قانونی حق پیدا نہیں ہوتا، پنشن کی اہلیت کا فیصلہ متعلقہ قانون کی شرائط کے مطابق ہی ہوگا۔
15 سالہ شرط کیا ہے؟
فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ای او بی آئی قانون کے تحت اولڈ ایج پنشن کے لیے عمومی طور پر کم از کم 15 سال کی بیمہ شدہ ملازمت/شراکت ضروری ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ یکم جولائی 2008 یا اس کے بعد بیمہ شدہ ہونے والے ملازمین پر پانچ سال کی خصوصی رعایت لاگو نہیں ہوتی چونکہ جاوید اقبال بھٹی کا بیمہ شدہ روزگار چھ سال سے بھی کم تھا، اس لیے وہ لازمی قانونی مدت پوری نہیں کرتے تھے۔
پس منظر، تنازع شروع کیسے ہوا؟
جاوید اقبال بھٹی نے ای او بی آئی سے اولڈ ایج پنشن کا مطالبہ کیا تھا، ای او بی آئی نے قانونی شرائط پوری نہ ہونے کی بنیاد پر پنشن دینے سے انکار کیا اور اس کے بجائے اولڈ ایج گرانٹ ادا کی۔
بعد ازاں معاملہ وفاقی محتسب کے سامنے گیا، محتسب نے شکایت کو بدانتظامی کے تناظر میں دیکھا اور درخواست گزار کو ریلیف دیا، معاملہ آگے بڑھتے ہوئے صدرِ پاکستان اور پھر اسلام آباد ہائیکورٹ تک پہنچا، جہاں ای او بی آئی کے مؤقف کو چیلنج کیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اب اس قانونی سوال کو بنیادی طور پر یہ قرار دیا ہے کہ پنشن کا حق محض انتظامی صوابدید یا ہمدردی کی بنیاد پر پیدا نہیں ہوسکتا، پہلے قانون میں مقررہ اہلیت پوری ہونا ضروری ہے۔
عدالت کا اہم قانونی نکتہ
فیصلے میں کہا گیا کہ قانونی حق کے تنازع کو صرف “بدانتظامی” کا نام دے کر وفاقی محتسب کا دائرۂ اختیار نہیں بڑھایا جاسکتا۔ کسی شخص کو پنشن مل سکتی ہے یا نہیں، تو اس کا فیصلہ ای او بی آئی قانون میں موجود مخصوص طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ بغیر قانونی دائرۂ اختیار کے جاری کیا گیا حکم بعد میں صدر یا کسی عدالت کی توثیق سے بھی قانونی حیثیت حاصل نہیں کرسکتا۔
اسی طرح عدالت نے فیصلے کی وجوہات درج کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وجوہات لکھنا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ فیصلے کی قانونی بنیاد واضح کرنا ضروری ہے۔
فیصلے کا عملی مطلب
اس فیصلے کا بنیادی اثر یہ ہے کہ ای او بی آئی پنشن کے ہر دعوے میں قانونی اہلیت کو بنیادی شرط کے طور پر دیکھا جائے گا، محض یہ ثابت ہوجانا کہ کسی شخص نے ای او بی آئی میں کچھ عرصہ شراکت کی یا اسے پہلے کوئی گرانٹ مل چکی ہے، اس سے خودکار طور پر ماہانہ پنشن کا حق پیدا نہیں ہوگا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ فوائد کی اہلیت، رقم اور مدت کا تعین ای او بی آئی قانون، بالخصوص اس کے متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تحت ہوگا جبکہ قانون میں فیصلوں کے خلاف نظرثانی اور اپیل کے راستے بھی موجود ہیں۔
اہم فرق: یہ فیصلہ ان الگ مقدمات سے مختلف ہے جن میں وفاقی آئینی عدالت نے 14 سال 6 ماہ یا اس سے زیادہ بیمہ شدہ ملازمت رکھنے والے کارکنوں کے حق میں فیصلہ دیا تھا، ان مقدمات میں عدالت نے ای او بی آئی کی اپیلیں مسترد کی تھیں، موجودہ مقدمے میں درخواست گزار کی سروس چھ سال سے بھی کم تھی، اس لیے وہ معاملہ اس رعایت کے دائرے میں نہیں آتا۔



