پشاور کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات سے موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل ہے۔
اندرون شہر سمیت نواحی علاقوں میں موبائل فون سروس بندش سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، صارفین کے مطابق اس وقت پوش علاقے حیات آباد، رنگ روڈ حیات آباد ٹول پلازہ، بھانہ ماڑی، کوہاٹی چوک سرکلر رو ڈ اور اندرون شہر کے مختلف علاقوں میں موبائل اور انٹر نیٹ سروس معطل ہے۔
سیلولر کمپنیوں کی جانب سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے متعلق کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا تاہم ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کی گزرگاہوں اور ملحقہ علاقوں میں موبائل سروس بندش کا فیصلہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے تاکہ قافلے کے گزرنے کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوا تھا اور بدھ کی شام مظاہرین خیبر ضلع پہنچ گئے تھے۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا قافلہ ضلع خیبر سے پشاور میں داخل ہوتے ہوئے رنگ روڈ پر ہوتے ہوئے چارسدہ روڈ پہنچے گا، پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اس وقت لانگ مارچ کا قافلہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں ضلع خیبر سے روانہ ہو گیا ہے جو جلد پشاور میں داخل ہو گا۔
حکام کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ ڈیٹا سروس بندش کے حوالے سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے تاہم ذرائع کے مطابق چار اکتوبر سے ضلع لکی مروت گنڈی چوک سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے دوران موبائل فون اور انٹرنیٹ ڈیٹا سروس بندش کی شکایات سامنے آئیں تھیں۔
صارفین کے مطابق کرک اور کوہاٹ میں بھی لانگ مارچ کے قافلے کے گزرنے کے دوران موبائل فون سروس معطل رہی تھی۔
تحریک انصاف کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ کا قافلہ ضلع خیبر سے پشاور پہنچے گا، حیات آباد ٹول پلازہ کے راستے پشاور میں سفر کا آغاز کر ے گا، قافلہ بھانہ ماڑی چونگی، کوہاٹی چوک سرکلر روڈ سے ہوتے ہوئے جمیل چوک اور پھر پیر زکوڑی پل پہنچے گا، شام کے بعد قافلہ رنگ روڈ دلہ ذاک چوک سے چارسدہ روڈ پہنچے گا۔
لانگ مارچ کے روٹ پر سکیورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کیے گئے ہیں، پولیس حکام کے مطابق قافلے کی گزرگاہ پر پولیس افسران اور اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک اہلکار بھی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔



