کراچی میں قتل ہونے والے تاجر میر رضا کیس میں کمیشن نے پولیس تفتیش پر شکوک کا اظہار کر دیا۔
کراچی میں میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے سماعت کی کارروائی مکمل کرلی۔ سماعت کے دوران تفتیشی افسر سراج لاشاری کا بیان دوبارہ قلمبند کیا گیا اور کمیشن نے کیس کی تفتیش، شواہد اور پولیس کے اقدامات سے متعلق اہم سوالات کیے۔
جوڈیشل کمیشن نے سوال کیا کہ کرپٹو میں کتنی آئی ڈیز ہیں؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ کرپٹو میں 3 اکاؤنٹس کی تفصیلات موجود ہیں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے ٹریڈنگ کمپنی رابطے میں ہوتی ہے۔
کمیشن نے میر رضا کی منگیتر کی جانب سے فون اور پاس ورڈ مانگے جانے کی شکایت کا بھی حوالہ دیا اور پوچھا کہ کیا منگیتر کی چیٹ ڈی ایس پی سراج لاشاری کو بھیجی گئی تھی؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ چیٹ انہوں نے ایکسپورٹ کی تھی تاکہ اس پر تفتیش کی جاسکے، تاہم ان کی جانب سے ایسی کوئی چیز میڈیا سے شیئر نہیں کی گئی۔
کمیشن نے ہدایت کی کہ اگر کسی کی پرائیویٹ چیٹ لیک ہوئی ہے تو مقدمہ درج کیا جائے۔ کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ کیا میر رضا کو فیصل آباد این سی سی آئی اے کی جانب سے کوئی نوٹس جاری ہوا تھا؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ انہیں اس کا ابھی علم ہوا ہے۔ کمیشن نے نوٹس کی کاپی فراہم کرنے اور معاملے کی تفتیش کرنے کی ہدایت کردی۔
سماعت کے دوران کمیشن نے میر رضا کے جسم سے بے ہوشی کی دوا ملنے کے شواہد سے متعلق بھی سوال کیا۔ تفتیشی افسر نے واضح کیا کہ میر رضا کے جسم سے بے ہوشی کی دوا ملنے کے شواہد نہیں ملے۔
کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کا دوبارہ بیان ریکارڈ کرنے کی وجہ دریافت کی۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ کا دوبارہ بیان ریکارڈ کرنا پوری تفتیشی ٹیم کا فیصلہ تھا۔
جوڈیشل کمیشن نے سوال کیا کہ پولیس سرجن بھی آڈیو میں موجود تھیں تو انہیں کیوں نہیں بلایا گیا؟ کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ ڈی آئی جی نے گواہان کو نظرانداز کیا اور ڈاکٹر اسامہ کو اہمیت دی، جس پر کمیشن کو ڈی آئی جی کے عمل پر شک ہوا اور اس حوالے سے نوٹ لکھنے کا اعلان کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ پولیس سرجن کو اس لیے نہیں بلایا گیا کیونکہ وہ سینئر افسر ہیں۔ کمیشن نے ڈی آئی جی عامر فاروقی سے متعلق بھی سوال کیا کہ انہیں سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ تفتیشی افسر نے بتایا کہ سپر میڈیکل بورڈ کے لیے اس لیے لکھا گیا کیونکہ پولیس سرجن نے ایس ایس پی کو خط لکھ دیا تھا۔
سماعت کے دوران کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ ایک ڈاکٹر اسامہ سب پر بھاری ہے اور تمام سینئر ڈاکٹروں کو غلط ثابت کررہا ہے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ سمجھ نہیں آرہا کہ میڈیکل بورڈ کیوں بنایا جارہا ہے، کیا کسی کو کور کیا جارہا ہے؟
کمیشن نے پیش کی جانے والی تصاویر پر بھی سوالات کیے اور کہا کہ تصاویر میں دو بوتلیں کیڑوں کی ادویات کی دکھائی دے رہی ہیں۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ وہ ڈٹرجنٹ کی بوتلیں تھیں جو گھر سے پھینکی گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے رہائشی خاتون کا بیان بھی ریکارڈ کیا تھا۔
جوڈیشل کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ پولیس نے کیس میں کسی ایک شخص کے خلاف کارروائی نہیں کی، جس پر بتایا گیا کہ کیس میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت کئی افراد معطل ہوچکے ہیں۔
سماعت کے دوران سربراہ جوڈیشل کمیشن نے ریمارکس دیئے کہ پولیس صرف خودکشی کے معاملے پر لگی ہوئی ہے۔
کمیشن نے میر رضا کے اہل خانہ سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوا کہ میر رضا اپنے خاندان سے بھی بہت کچھ چھپاتا تھا۔
جوڈیشل کمیشن نے کہا کہ کچھ لوگوں نے تعصب کی کوشش کی لیکن وہ ناکام ہوگئے۔ اس نے پل کا کام کیا اور حکومت و متعلقہ حکام سے سوالات کے جوابات مانگے۔
کمیشن نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے کمیشن کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہم نے ان کی تنقید کو مثبت انداز میں لیا۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی ایک غلطی کا بھی ذکر کیا گیا جس پر انہیں ڈانٹ پڑی۔
کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستان جوہر سے ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیئے گئے تھے۔
مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ میر رضا کا 30 اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور وہ اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔



