صومالیہ میں بحری قزاقوں کی قید سے رہائی پانے والے مزید تین پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے۔
ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا سے ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز ET-694 تینوں پاکستانیوں کو لے کر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچی، جہاں گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے ان کا استقبال کیا۔
وطن واپس آنے والوں میں حسین یوسف، عمران علی اور محمد یاسین شامل ہیں۔ تینوں پاکستانی بحری جہاز MT Honour 25 کے عملے کا حصہ تھے، جسے رواں سال اپریل میں صومالی قزاقوں نے اغوا کرلیا تھا، جہاز میں موجود تمام سات زندہ بچ جانے والے پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔
یاد رہے کہ 30 ستمبر کو صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے آئل ٹینکر Honour 25 کے عملے کی بازیابی کے لیے کارروائی کے دوران قزاقوں کی فائرنگ سے 3 پاکستانیوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
‘پاکستانیوں کو یرغمال بنائے جانے کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ تھا، گورنر سندھ’
گورنر سندھ نے محمد یاسین، عمران علی اور سید حسین یوسف کا خیرمقدم کیا، ان کی خیریت دریافت کی اور انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ میئر کراچی سمیت دیگر حکام اور صومالیہ سے آنے والی پاکستانیوں کے اہل خانہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
نہال ہاشمی نے کہا کہ صومالی قزاقوں کی جانب سے پاکستانیوں کو یرغمال بنائے جانے کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ تھا، متاثرہ پاکستانیوں کے دکھ اور درد کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرہ خاندانوں کے معاملے پر خصوصی توجہ دی اور ان کی واپسی اور امداد کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کیں۔
گورنر سندھ کے مطابق وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کے لیے رہائشی پلاٹس، بچوں کی تعلیم اور صحت سے متعلق اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ ریاست اپنی استطاعت کے مطابق متاثرہ خاندانوں کی کفالت کرے گی جبکہ اس حوالے سے موصول ہونے والی امدادی رقم بھی متاثرہ خاندانوں کے حوالے کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے بھی متاثرہ پاکستانیوں کے معاملے میں بھرپور تعاون کیا ہے۔ ہم کسی جماعت کی حیثیت سے نہیں بلکہ پاکستانی بن کر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آپ تنہا نہیں، پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ قوم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور قومی یکجہتی کے ذریعے مشکل حالات کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
Honour 25 کو کب اور کیسے اغوا کیا گیا؟
MT Honour 25 ایک پالاؤ پرچم بردار آئل ٹینکر ہے جسے 21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے ساحل کے قریب مسلح بحری قزاقوں نے ہائی جیک کرلیا تھا، بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی ریکارڈ کے مطابق جہاز پر مسلح افراد نے سوار ہوکر اسے اپنے قبضے میں لیا تھا۔
اس وقت جہاز پر تقریباً 19 رکنی عملہ موجود تھا، جس میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی تھی، مختلف مراحل پر پاکستانی حکام اور میڈیا رپورٹس نے پاکستانی عملے کی تعداد 10 بتائی۔ پاکستانی حکام کے مطابق عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ انڈونیشین، بھارتی اور دیگر ممالک کے شہری بھی شامل تھے۔
اغوا کے بعد جہاز کو صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پٹ لینڈ کے ساحل کے قریب لے جایا گیا، کئی ماہ تک عملہ قزاقوں کے قبضے میں رہا اور اہلخانہ کی جانب سے حکومت سے فوری مداخلت اور بازیابی کی اپیلیں سامنے آتی رہیں۔
کئی ماہ تک عملہ قزاقوں کی تحویل میں رہا۔ ستمبر کے آخر میں صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس فورس نے جہاز کی بازیابی کے لیے کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران قزاقوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ پنٹ لینڈ حکام کے مطابق کارروائی سے قبل قزاقوں نے پانچ مغوی اہلکاروں کو قتل کردیا، جن میں تین پاکستانی، ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری شامل تھے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے تین پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق کی۔ شہید ہونے والوں میں رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری شامل تھے۔ مزید تین پاکستانیوں سمیت چار اہلکار زخمی ہوئے۔
پاکستانیوں کی مرحلہ وار واپسی
واقعے کے بعد زخمی پاکستانیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی اور پاکستان نے سفارتی ذرائع کے ذریعے ان کی وطن واپسی کے انتظامات کیے۔ 4 اکتوبر کو چار زخمی پاکستانی کراچی پہنچے جبکہ شہید پاکستانیوں کی میتیں بھی اسی پرواز کے ذریعے وطن لائی گئیں۔
بعد ازاں حسین یوسف، عمران علی اور محمد یاسین کو صومالیہ سے نکال کر ادیس ابابا منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ 7 اکتوبر کو کراچی پہنچ گئے۔ ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق ان تینوں کی رہائی میں صومالی حکام اور یورپی یونین نیول فورس آپریشن اٹلانٹا سمیت متعلقہ اداروں نے تعاون کیا۔
یوں MT Honour 25 کے 10 پاکستانی عملے میں سے تین جان کی بازی ہار گئے، چار زخمی ہوئے اور باقی تین محفوظ رہنے والے پاکستانی بھی اب وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔



