اسلام آباد: پاکستان نے صومالیہ جہاز آپریشن میں زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملے کی محفوظ واپسی یقینی بنانے کے لیے ہرممکن کوششیں شروع کر دیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ ایم ٹی آنر 25 کے عملے کے 5 ارکان کے جاں بحق ہونے پر شدید رنج وغم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 3 پاکستانی شہری رفیع اللہ خان، سید کاشف اور محمود احمد انصاری شامل ہیں۔ جبکہ حکومت پاکستان اور عوام غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
ترجمان نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ عملے کے 4 زخمی ارکان میں 3 پاکستانی شہری شامل ہیں۔ جنہیں قریبی اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اور ایم ٹی آنر 25 کے زندہ بچ جانے والے عملے کو بندربیلا کے ساحل پر پہنچا دیا گیا ہے۔
WATCH: Puntland Maritime Police Forces rescue the oil tanker MT SIBU1 after it was held by pirates for more than a month off the coast of Somalia. pic.twitter.com/NZJqcBK2ub
— The Daily Somalia (@TheDailySomalia) September 25, 2026
انہوں نے پاکستانی کوششوں سے متعلق کہا کہ جبوتی میں پاکستانی سفارتخانے کی ٹیم پاکستانی شہریوں کی مدد کے لیے بندر بیلا روانہ ہو رہی ہے۔ جبکہ پاکستانی مشن اور متعلقہ حکام صومالیہ کے حکام اور دیگر فریقین سے رابطے میں ہیں۔
Puntland forces have freed the Honour 25 after a gun battle with suspected pirates off the Somali coast. The operation reportedly led to injuries and arrests, marking the second vessel the authorities say they have recovered. pic.twitter.com/27lJlgj6oh
— Dalsan TV (@DalsanTv) September 29, 2026
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جاں بحق افراد کی میتوں کی منتقلی کے لیے سہولت فراہم کرنے کی کوشش جاری ہے۔ اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملے کی محفوظ واپسی یقینی بنانے کے لیے ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے۔
ایم ٹی آنر 25 کو کب اغوا کیا گیا؟
ایم ٹی آنر 25 ایک پالاؤ پرچم بردار آئل ٹینکر ہے جسے 21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے ساحل کے قریب مسلح بحری قزاقوں نے ہائی جیک کرلیا تھا، بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی ریکارڈ کے مطابق جہاز پر مسلح افراد نے سوار ہوکر اسے اپنے قبضے میں لیا تھا۔
جہاز پر تقریباً 17 رکنی عملہ موجود تھا، جس میں بڑی تعداد پاکستانیوں کی تھی، مختلف مراحل پر پاکستانی حکام اور میڈیا رپورٹس نے پاکستانی عملے کی تعداد 10 یا 11 بتائی۔ پاکستانی حکام کے مطابق عملے میں پاکستانیوں کے علاوہ انڈونیشین، بھارتی اور دیگر ممالک کے شہری بھی شامل تھے۔
اغوا کے بعد جہاز کو صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پٹ لینڈ کے ساحل کے قریب لے جایا گیا، کئی ماہ تک عملہ قزاقوں کے قبضے میں رہا اور اہلخانہ کی جانب سے حکومت سے فوری مداخلت اور بازیابی کی اپیلیں سامنے آتی رہیں۔
جون میں سامنے آنے والے ایک پیغام میں عملے نے بتایا تھا کہ وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور خوراک کے طور پر محدود مقدار میں چاول دستیاب تھے۔ پاکستانی حکومت نے بھی اس وقت کہا تھا کہ ایسی کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی جو یرغمالیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے۔
ڈان نیوز کے مطابق جولائی میں بھی جہاز کے کپتان کی جانب سے مدد کی اپیل سامنے آئی تھی، جس میں عملے کی بگڑتی صحت اور خوراک و صاف پانی کی قلت کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس وقت تک جہاز کے اغوا کو تین ماہ گزر چکے تھے۔
ستمبر کے اوائل میں مغوی پاکستانیوں کے اہلخانہ نے کراچی میں احتجاج بھی کیا تھا۔ اس وقت تک عملہ چار ماہ سے زائد عرصے سے قزاقوں کی تحویل میں تھا۔
ہماری آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، انصار برنی
دوسری جانب پاکستانیوں سمیت متعدد افراد کی ہلاکت پر انصار برنی نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے مغوی عملے کی سنگین صورتحال اور جانوں کو لاحق خطرات سے مسلسل ارباب اختیار کو آگاہ کیا جاتا رہا، تاہم ان کی آواز کو وہ سنجیدگی نہیں مل سکی جس کی ضرورت تھی۔


