مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی بدقسمتی ہے، اب جھگڑا ہوا تو امن اور سیاسی استحکام کی منزل بہت دور ہو جائے گی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہفتے کے روز مذاکرات تقریباً 10 گھنٹوں تک جاری رہے، مذاکرات میں سیاسی کشیدگی کم کرنے، احتجاجی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکنے کے باعث مذاکرات ناکامی کا شکار ہو گئے، جس کی ذمہ داری فریقین نے ایک دوسرے پر ڈال دی۔
سعد رفیق نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اطلاع کے مطابق حکومتی ٹیم پورے مینڈیٹ کے ساتھ بیٹھی تھی، اپوزیشن ٹیم کا رویہ بھی مثبت رہا، حکومت نے 4 بار معاہدے کے ڈرافٹ میں تبدیلی کروائی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے نئے ڈرافٹ نے معاہدے کو ختم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی مطالبہ لانگ مارچ کے التوا اورریاستی اداروں سے تعاون تھا، پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کیا جا سکتا تھا اور حکومتی وعدے پورے نہ ہونے پرلانگ مارچ دوبارہ کیا جا سکتا تھا۔
آواز ِ دروں —•—
حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کی ناکامی بڑی بدقسمتی ھے
ھماری اطلاع کے مطابق حکومتی ٹیم ماضی کےبرعکس
سٹیک ھولڈرز کی جانب سے دیے گئے پورے مینڈیٹ کے ساتھ بیٹھی تھیاپوزیشن کی ٹیم کارویہ بھی مثبت رھا ، اپوزیشن کے مطالبے پر حکومت نے چار مرتبہ معاھدے کے ڈرافٹ میں تبدیلی کروا کر اسے منظور کروایا لیکن طے ھو جانے کے بعد آخری مرحلے پر وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کی جانب سے بھیجے گئے ایک نئے ڈرافٹ نے طے شدہ معاھدہ کو ختم کروا دیا
حکومتی مطالبہ لانگ مارچ کے التوأ اور دھشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاستی اداروں سے تعاون کرنیکا تھا
لانگ مارچ ملتوی کیا جا سکتا تھا اور حکومت کی جانب سے اپوزیشن راھنماؤں کیلئے آسانی پیدا کرنے کے وعدے مقررہ مدت میں پورے نہ ھونے پر دوبارہ کیا جاسکتا تھا
معاھدہ ھو جاتا تو عمران خان صاحب سے انکے اھل خانہ اور انکے وکلا کی فوری ملاقات کا راستہ کھُل جاتا ،
اسی طرح دھشت گردی کیخلاف خیبر پختونخواہ حکومت کے وفاقی ریاستی اداروں سے تعاون کا معاملہ طے ھو جاتا تو تعلقات بہتر ھونے کی بنیاد رکھی جاتی اور PTI کے گرفتار راھنماؤں کیلئے آسانی کا معاملہ چل پڑتا
لیکن بدقسمتی سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کے بے لچک اور سخت رویے نے امن اور استحکام کیلئے بہت مشکل سے بنایا گیا ماحول بگاڑ دیا
پی ٹی آئ کی قیادت اس سے پہلے بھی کىئ مواقع ضائع کر چکی ھے
اول اسوقت جب پی ڈی ایم کی حکومت بننے کے چند دن بعد ھی میاں نواز شریف صاحب نے ھم سب کو لندن بلایا اور مستعفی ھو کر نئے انتخابات میں جانے کا فیصلہ کیا گیا ، حساس اداروں نے عمران خان صاحب کو لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے اور چند روز انتظار کا مشور دیا لیکن خان صاحب نے یکایک لانگ مارچ کے ذریعے اسلام آباد پر چڑھائ کا اعلان کرکے مرکزی حکومت اور ریاستی اداروں کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا
دوم اسوقت جب شاہ محمود قریشی صاحب اور اسحاق ڈار صاحب کی سربراھی میں مذاکراتی کمیٹیوں نے اکتوبر 23 میں نئے انتخابات کروانے کی تجویز فائنل کر دی مگر خان صاحب نے نجانے کیوں اسے ویٹو کر کے مذاکرات ناکام بنا دیے
ابھی وقت ھاتھ سے نہیں نکلا ، اپوزیشن لانگ مارچ ملتوی کرے
انسانی جانیں اور امن تمام اھداف سے زیادہ اھم ھیںجناب بیرسٹر گوھر ، جناب اسد قیصر ، جناب سلمان اکرم راجہ اور جناب عامر ڈوگر اپنے انتہا پسند ساتھیوں کو سمجھائیں ،
پی ٹی آئ کی قیادت کیلئے آسانی کا ماحول پیدا ھونے دیں ، دھشت گردی کیخلاف جنگ متحد ھو کر لڑی جاۓلانگ مارچ کی تاریخ کوئ آسمانی صحیفہ نہیں ، معاھدہ ھونے دیں تاکہ اعتماد سازی کے اقدامات کی بنیاد رکھی جاۓ
اب جھگڑا ھوا تو امن اور سیاسی استحکام کی منزل بہت دور ھو جاۓ گی۔۔۔
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) October 4, 2026
انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہو جانے کی صورت میں بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ اور وکلا کی ملاقات کا راستہ کھل جاتا، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور اپوزیشن لیڈرکے رویے نے ماحول بگاڑ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی قیادت اس سے پہلے بھی کئی مواقع ضائع کر چکی ہے، ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا ، اپوزیشن لانگ مارچ ملتوی کرے ، انسانی جانیں اور امن تمام اہداف سے اہم ہیں۔
سعد رفیق نے کہا کہ بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور عامر ڈوگر ساتھیوں کو سمجھائیں، لانگ مارچ کی تاریخ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، معاہدہ ہونے دیں تاکہ اعتماد سازی کے اقدامات کی بنیاد رکھی جائے۔



