وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں آج مثبت پیش رفت ہوئی ہے، حکومت کی جانب سے مذاکرات میں لچک بھی نظر آ رہی ہے اور امید ہے کہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھایا جاسکے گا۔
ہم نیوز کے پروگرام ’کوئسچن آور‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹرعقیل ملک نے کہا کہ مذاکرات کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی نے ثالثی کا کردارادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلے کہتی تھی کہ ان لوگوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے تاہم اب تحریک انصاف چاہتی ہے کہ بات چیت کے ذریعے معاملات حل ہوں۔
بیرسٹرعقیل ملک نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی عمل جاری ہے اور آج ہونے والی بات چیت میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بھی مذاکرات میں لچک دکھائی جا رہی ہے اور فریقین کو سیاسی معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گورنرراج کا آپشن اب بھی موجود ہے، تاہم ایمرجنسی یا گورنر راج کا لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں، ایمرجنسی یا گورنر راج سیکیورٹی صورتحال کے باعث زیر بحث ہے۔
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ حکومت کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہوگا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پرلانگ مارچ کا نہ پہلے دباؤ تھا اور نہ اب ہے۔
بیرسٹرعقیل ملک نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کابینہ کے لوگ حکومت سے رابطے میں ہیں اور صوبائی کابینہ کے ارکان نے کہا ہے کہ کوئی راستہ نکالا جائے۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر بھی چاہتے تھے کہ بات چیت ہو اور معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی معاملات خراب کر رہے ہیں اور تحریک انصاف کو اپوزیشن لیڈر کے کردار پر تشویش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن لیڈر پارلیمان میں مذاکرات نہیں کرنا چاہتے تو کیا حکومت مذاکرات کیلئے جنیوا چلی جائے؟
عقیل ملک نے کہا کہ تحریک انصاف کو لانگ مارچ غیر مشروط طور پرمنسوخ کرنا چاہیے، ان کے مطابق حکومت سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے تیار ہے، تاہم اس کیلئے ماحول سازگار رکھنا ضروری ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر وزیر مملکت نے کہا کہ اس معاملے پر بات نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ عدالتوں کا کام ہے، حکومت نے کسی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں سے منع نہیں کیا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ سیاسی معاملات کا حل نکالا جاسکے، تاہم بعض معاملات عدالتوں سے متعلق ہیں اور ان کا فیصلہ متعلقہ فورمز ہی پر ہوگا۔



