نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان نے فلسطین، جموں و کشمیر، عالمی امن اور خطے کے اہم مسائل پر دوٹوک مؤقف پیش کیا۔
وزارت خارجہ میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ نیویارک اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے متعلق میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔
انہوں نے کہا کہ نیویارک میں پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ کی کوریج کرنے والے صحافیوں سے ملاقات نہیں ہوسکی، اسی لیے آج دورے کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دی جا رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں افغانستان، ایران اور سعودی عرب سے متعلق معاملات پر بھی پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ نیویارک انتہائی مصروف اور سفارتی اعتبار سے اہم رہا، جس کے دوران پاکستان نے عالمی رہنماؤں اور مختلف عالمی فورمز پر قومی و علاقائی مفادات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں فلسطین، جموں و کشمیر، بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی، سندھ طاس معاہدے، افغانستان سے دہشتگردی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دیگر عالمی و علاقائی مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم نے امریکا اور ایران کے درمیان امن اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے 47 سال بعد امریکا اور ایران کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال اور عالمی توانائی سپلائی چین پر اس کے اثرات کو بھی عالمی فورم پر اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس ہوئے اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
جنرل اسمبلی میں وزیراعظم کے خطاب پر تالیاں بجتی رہیں
اسحاق ڈار نے وزیراعظم شہباز شریف کی تقریر کو پاکستان کی مؤثر نمائندگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطاب کے دوران اقوام متحدہ کے ہال میں متعدد بار تالیاں بجیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جامع انداز میں پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھا اور عالمی و علاقائی چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر واضح کیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کا کردار
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں کثیرالجہتی نظام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں کثیرالجہتی نظام اور تنازعات کے پرامن حل سے متعلق قرارداد 12 سال بعد متفقہ طور پر منظور ہوئی، جسے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی عالمی سطح پر پذیرائی کے طور پر دیکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے او آئی سی اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون اور رابطہ مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے بھی اہم اجلاس کی صدارت کی۔
عالمی رہنماؤں اور اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں
اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ سیکرٹری جنرل نے وزیراعظم کی دعوت پر پاکستان آنے کی دعوت قبول کرلی ہے اور ان کے دورہ پاکستان کا پروگرام جلد جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی کویت کے ولی عہد و وزیراعظم، کینیا کے صدر، بوسنیا و ہرزیگوینا کی قیادت، ایران اور شام کے صدور، بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان اور لبنان کے وزیراعظم سمیت دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ لبنان کی قیادت نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔
یورپی یونین اور جی ایس پی پلس پر بھی بات چیت
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے صدور سے بھی ملاقات کی، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور جی ایس پی پلس سمیت باہمی اقتصادی تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس کے آئندہ مرحلے کے حوالے سے بھی بات ہوئی، جبکہ پاکستان کے معاشی اور تجارتی مفادات کو سامنے رکھا گیا۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی اصلاحات کو سراہا
نائب وزیراعظم کے مطابق آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے بھی وزیراعظم کی ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کی معاشی اصلاحات اور حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دورہ نیویارک کے دوران عالمی کاروباری شخصیات اور پاکستان امریکن بزنس کمیونٹی سے بھی روابط ہوئے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ نیویارک انتہائی مصروف رہا اور پانچ روز کے دوران روزانہ اوسطاً تقریباً 12 ملاقاتیں اور دیگر سرگرمیاں ہوئیں، جس سے دورے کی مصروفیات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔



