وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا سے متعلق حتمی فیصلے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں امن و امان کے قیام میں ناکام ہو چکی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے میں سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی تازہ مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسلام آباد اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان سکیورٹی کی صورتحال اور پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے اسلام آباد مارچ کے معاملے پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر کشمیر امور امیر مقام، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعت عطا تارڑ شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی اور سکیورٹی کی صورت حال جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قانونی اور آئینی پہلوؤں پر بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے تحریک انصاف کی قیادت سے پس پردہ رابطوں پر بھی اعتماد میں لیا، جبکہ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا سے متعلق فیصلے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔
آئینی اور قانونی اور آپشنز پر غور
گزشتہ روز بھی وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے مختلف آئینی اور قانونی اور آپشنز پر غور کیا گیا۔
اجلاس سے متعلق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والا اعلیٰ سطح کا اجلاس قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل معمول کی مشاورت تھی اور اس کا گورنر راج یا ہنگامی حالت کے نفاذ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
وفاقی وزراء کا خیبر پختونخوا حکومت پر الزام
خیال رہے کہ وفاقی وزراء نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشتگردی سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے انسدادِ دہشتگردی کے لیے مختص وسائل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب حملے اور 26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں چیک پوسٹ پر خودکش دھماکے کے بعد وفاقی وزراء نے صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
دہشتگردی کیخلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کی سب سے زیادہ قربانیاں
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے دہشتگردی سے نمٹنے میں ناکامی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی پولیس، شہریوں اور سیاسی کارکنوں نے بھی دہشت گردی کے باعث بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے۔ ہمارے کارکنوں، منتخب نمائندوں، پولیس اور عام شہریوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجسنی لگانے کی دھمکیوں پر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب ہمارا مارچ پُرامن ہو گا۔



