پاک بحریہ نے کے ٹو ائیر ویز کے کارگوطیارے کے بلیک باکس کا مقام تلاش کر لیا۔
رواں سال جولائی میں بحیرۂ عرب میں پیش آنے والے K2 ایئرویز کے بوئنگ 737 کارگو طیارے کے حادثے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پاک بحریہ نے تقریباً دو ماہ سے جاری وسیع اور پیچیدہ زیرِ آب سرچ آپریشن کے دوران سمندر کی تقریباً 3200 میٹر گہرائی میں طیارے کے بلیک باکس کا مقام تلاش کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک بحریہ کے جہازوں نے نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹفک کمیشن (NESCOM) کے تیار کردہ خصوصی آلات کی مدد سے سمندر کی انتہائی گہرائی میں موجود طیارے کے ملبے اور بلیک باکس کے مقام کی نشاندہی کی۔
پاک بحریہ کی جانب سے بلیک باکس کی کامیاب نشاندہی سے متعلق معلومات بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن (BASI) کو فراہم کردی گئی ہیں تاکہ حادثے کی تکنیکی تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔
سمندر کی اس گہرائی میں بلیک باکس کی تلاش پاک بحریہ کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن قرار دیا جارہا ہے۔
حادثہ کب اور کیسے پیش آیا؟
K2 ایئرویز کا بوئنگ 737-400 کارگو طیارہ 7 جولائی 2026 کو شارجہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ طیارے میں پانچ افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا۔ دورانِ پرواز عملے نے نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی، جس کے کچھ ہی دیر بعد طیارے کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق طیارے کا ملبہ بعدازاں اورماڑہ سے تقریباً 53 ناٹیکل میل جنوب میں بحیرۂ عرب سے تلاش کیا گیا، پاک بحریہ، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور دیگر اداروں نے بڑے پیمانے پر فضائی اور سمندری سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر سمندر سے طیارے کے مختلف حصے اور ملبہ برآمد کیا گیا تاہم طیارے کا مرکزی ڈھانچہ، فلائٹ ریکارڈرز اور عملے کی تلاش ایک بڑا چیلنج بنی رہی۔ حادثے کے مقام پر سمندر کی گہرائی تقریباً 3000 میٹر بتائی گئی تھی، جس کے باعث بلیک باکس تک پہنچنے کے لیے انتہائی پیچیدہ زیرِ آب آپریشن درکار تھا۔
بلیک باکس کیوں اہم ہے؟
طیارے کا بلیک باکس دراصل فلائٹ ریکارڈنگ سسٹم ہے جس میں پرواز سے متعلق اہم معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ عام طور پر اس میں فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR) اور کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) شامل ہوتے ہیں۔
K2 ایئرویز حادثے کی تحقیقات میں بلیک باکس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ حادثے سے کچھ دیر قبل عملے نے نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔ ابتدائی فلائٹ ڈیٹا میں طیارے کی بلندی میں تیزی سے تبدیلیاں بھی ریکارڈ ہوئیں، تاہم حادثے کی حتمی وجہ ابھی تحقیقات کا موضوع ہے۔
جولائی میں حادثے کے ابتدائی مرحلے پر تحقیقاتی ٹیم نے دستیاب ملبے اور ریکارڈز کا جائزہ لیا تھا تاہم حکام کے مطابق بلیک باکس اور دیگر اہم حصوں کی عدم دستیابی کے باعث حادثے کی تکنیکی وجہ کا تعین ممکن نہیں تھا۔
دو ماہ کا مشکل سرچ آپریشن
حادثے کے بعد ابتدائی سرچ آپریشن میں طیارے کے ملبے کی نشاندہی نسبتاً کم وقت میں ہوگئی تھی لیکن سمندر کی انتہائی گہرائی میں موجود اہم حصوں تک پہنچنا ایک الگ اور زیادہ پیچیدہ مرحلہ تھا۔
بعد میں پانچ رکنی عملے کے لواحقین کی جانب سے بھی بلیک باکس کی تلاش اور حادثے کی شفاف تحقیقات کے لیے مزید عالمی معاونت کا مطالبہ سامنے آیا تھا، اس وقت ماہرین نے نشاندہی کی تھی کہ تقریباً 3000 میٹر گہرے پانی میں فلائٹ ریکارڈرز کی تلاش ایک مہنگا اور تکنیکی طور پر مشکل آپریشن ہوگا۔
تحقیقات میں اہم پیش رفت
پاک بحریہ کی جانب سے اب بلیک باکس کے مقام کی نشاندہی کو حادثے کی تحقیقات کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ بلیک باکس تک رسائی اور اسے سمندر سے نکالنے کے بعد تحقیقاتی حکام کو طیارے کی آخری پرواز کے دوران ہونے والے واقعات، کاک پٹ میں موجود صوتی معلومات اور فلائٹ ڈیٹا کے حوالے سے اہم شواہد ملنے کی توقع ہے۔
تاہم حادثے کی وجہ کے بارے میں حتمی نتیجہ بلیک باکس اور دیگر شواہد کے مکمل تجزیے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ دستیاب سرکاری و تحقیقاتی معلومات کی بنیاد پر فی الحال کسی ایک وجہ کو حادثے کا حتمی سبب قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
پس منظر میں اہم نکتہ
رائٹرز کے مطابق K2 ایئرویز کا طیارہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بوئنگ 737-400 شارجہ سے کراچی آرہا تھا۔ طیارہ پاکستان کے ساحلی علاقے کے قریب بحیرۂ عرب میں گر کر تباہ ہوا اور ابتدائی طور پر اس کے ملبے کی نشاندہی اور ریکوری کے لیے پاک بحریہ اور دیگر اداروں نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیا۔
اب 3200 میٹر کی گہرائی میں بلیک باکس کے مقام کی نشاندہی حادثے کی اصل وجوہات جاننے کی کوششوں میں ایک اہم مرحلہ ہے جبکہ اس کے بعد بلیک باکس کی بازیابی اور اس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا فرانزک اور تکنیکی تجزیہ تحقیقات کی سمت متعین کرے گا۔



