مری میں اسکول کے بچوں کو لے جانے والی وین حادثے کا شکار ہو گئی جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 11 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق مری میں لوئر موہڑا بڑاہوتر کے قریب اسکول وین بے قابو ہو کر سڑک سے نیچے جا گری جس کے بعد وین میں آگ لگ گئی۔
یہ مری میں موسم گرما کے دوران وین کو آگ لگنے کا دوسرا واقعہ ہے، مری کے علاقے کھجٹ میں 10 جون کو ملتان سے آنے والی سیاحوں کی گاڑی میں بھی آگ لگی تھی جس میں 10 افراد جاں بحق اور 13 شدید زخمی ہوئے تھے۔
گاڑی میں پرائیویٹ اور سرکاری اسکول کے بچے سوار تھے
ریسکیو حکام نے مری واقعے کے حوالے سے بتایا کہ گاڑی میں پرائیویٹ اور سرکاری اسکول کے بچے سوار تھے، اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر تمام بچوں کو نکال لیا، زخمی بچوں کو فوری طبی امداد کے بعد سول اسپتال مری منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو فائر فائٹنگ ٹیم نے گاڑی میں لگی آگ پر قابو پا لیا ہے۔
بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، ڈپٹی کمشنر
ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر عباس شیرازی کے مطابق حادثے میں بچے جھلس کر زخمی ہوئے ہیں، چار بچوں کو ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ہے تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق وین میں بیٹری کے اسپارکنگ کے باعث آگ لگی ، گاڑی میں آگ بجھانے والا آلہ موجود نہیں تھا، سوزوکی کیری میں نشستوں کی گنجائش 8 بالغ یا 10 بچوں کی تھی۔ جبکہ گاڑی میں 11 بچے سوار تھے۔
دوسری جانب مری میں اسکول وین حادثے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے حفاظتی معیار کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈی پی او مری رضا تنویر نے سی ٹی او مری کو ٹریفک انفورسمنٹ مزید بڑھانے اور اسکول وینز اور پبلک ٹرانسپورٹ کی خصوصی چیکنگ کی ہدایت کی ہے۔
غیر محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کارروائی ہو گی
اس کے علاوہ ڈی پی او مری نے اوورلوڈنگ، غیر محفوظ سلنڈرز، فٹنس، روٹ پرمٹ اور لائسنس کی جانچ کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ غیر محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کارروائی ہو گی ، ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز گاڑیوں حفاظتی تقاضے مکمل کریں۔
واضح رہے پاکستان میں اسکول وینز میں آتشزدگی سمیت دیگر حادثات کے واقعات ماضی میں بھی پیش آ چکے ہیں۔ جن میں متعدد طلبہ جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں۔
2014 میں نواب شاہ میں اسکول وین اور ڈمپر کے درمیان میں تصادم کے نتیجے میں 18 طلبہ اور 3 اساتذہ جبکہ 2013 میں گجرات کے قریب اسکول بس میں گیس سلنڈر پھٹنے کے بعد آگ لگنے کے نتیجے میں 16 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق جبکہ 7 بچے زخمی ہوئے تھے۔
2023 میں راولپنڈی کی شاہ خالد کالونی میں بچوں کو اسکول لے جانے والی وین میں ڈیزل لیک ہونے کے باعث آگ لگی تھی اس واقعے میں تمام طلبہ اور ڈرائیور محفوظ رہے تھے۔
2024 میں جہلم میں کھیوڑہ سے پنڈ دادن خان جانے والی اسکول وین میں شارٹ سرکٹ سے آگ بھڑک اٹھی تھی، اس واقعے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، وین میں موجود تقریباً 20 طلبہ کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 2025 میں شدید دھند کے دوران اسکول وین کے ٹرک سے ٹکرانے کے نتیجے میں 2 طلبہ جاں بحق جبکہ ڈرائیور سمیت 23 افراد زخمی ہوئے تھے۔


