تہران: ایران کی پاسداران انقلاب بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی بغیر پائلٹ زیرِ آب گاڑی ریموس(Remus) 600 کو قبضے میں لے لیا ہے۔
خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی زیرِ آب گاڑی کو جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی بحریہ نے بتایا کہ امریکی زیرِ آب ڈرون کو ایک مربوط اور پیچیدہ انٹیلی جنس کارروائی کے دوران روکا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق کارروائی میں انٹیلی جنس صلاحیتوں کے ساتھ الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی بھی استعمال کی گئی۔
امریکی ڈرون کا ڈیٹا حاصل کرنے کا دعویٰ
پاسداران انقلاب کی بحریہ کا کہنا ہے کہ ریموس 600 کو آبنائے ہرمز میں جاسوسی کی غرض سے سرگرم پایا گیا تھا۔
ایرانی ماہرین نے امریکی خودکار زیرِ آب گاڑی کو اپنی تحویل میں لے کر اس کا تکنیکی معائنہ شروع کردیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ماہرین زیرِ آب گاڑی سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور دیگر معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اس میں موجود معلومات کو حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت ’بلاک‘ ہے اور ایرانی فورسز اہم آبی گزرگاہ میں خطرناک سرگرمیوں اور غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام کی جانب سے امریکی زیرِ آب گاڑی قبضے میں لینے کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایران کی جانب سے امریکی حملے کا خدشہ
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے بھی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکا خطے میں اپنی موجودہ صورتحال کے باعث ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی ممکنہ محاذ آرائی کیلئے تیار ہے اور امریکا کو پہلے سے زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ ریموس 600 ایک خودکار زیرِ آب گاڑی (AUV) ہے، جسے مختلف سمندری اور زیرِ آب مشنز کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔



