فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان ریاض میں ملاقات ہوئی جس میں پاک سعودی عرب باہمی دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے اور دوطرفہ عسکری تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی وزارت دفاع کی جانب سے ایکس پر کئی گئی ایک پوسٹ کے مطابق ملاقات کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے عسکری سربراہان کے حالیہ اجلاس کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔
اس کے علاوہ مکہ مکرمہ اور سعودی عرب میں شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ملاقات میں سعودی وزیر مملکت، کابینہ کے رکن اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مساعد بن محمد العیبان، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور سعودی وزیر دفاع کے انٹیلی جنس امور کے مشیر ہشام بن عبدالعزیز بن سیف بھی موجود تھے، جبکہ پاکستان کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
التقى صاحب السمو الملكي الأمير خالد بن سلمان بن عبدالعزيز وزير الدفاع، في الرياض، معالي قائد قوات الدفاع قائد الجيش الباكستاني المشير عاصم منير.
وجرى خلال اللقاء الإشادة بمخرجات اجتماع رؤساء الأركان لدول اتفاقية مكة للدفاع المشترك، وبحث الاعتداءات الآثمة التي استهدفت مكة المكرمة والمنشآت المدنية والاقتصادية في المملكة، والتأكيد على مواصلة العمل المشترك لمواجهة هذه الاعتداءات وفق اتفاقية مكة للدفاع المشترك.
حضر اللقاء معالي وزير الدولة عضو مجلس الوزراء مستشار الأمن الوطني الدكتور مساعد بن محمد العيبان، ومعالي رئيس هيئة الأركان العامة الفريق الأول الركن فياض بن حامد الرويلي، ومعالي مستشار سمو وزير الدفاع لشؤون الاستخبارات الأستاذ هشام بن عبدالعزيز بن سيف.
فيما حضره من الجانب الباكستاني عدد من المسؤولين.— وزارة الدفاع (@modgovksa) September 25, 2026
یاد رہے کہ فیلڈ مارشل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے سعودی دارالحکومت ریاض میں موجود ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اس اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی چیف آف جنرل اسٹاف اور ترکیے کے اعلیٰ عسکری حکام شریک ہوئے اور سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے شرکاء نے مقدس شہر مکہ اور شہری و معاشی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی تینوں اور سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کے لیے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس میں سعودی مسلح افواج کی عوام کے تحفظ اور مملکت کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پیشہ ورانہ کارکردگی اور مستعدی کو سراہا گیا۔
انٹیلی جنس شیئرنگ، عسکری رابطہ کاری، دفاعی صلاحیتوں کا انضمام مزید مؤثر بنانے پر اتفاق
اس کے علاوہ شرکاء نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج کے درمیان تعاون مزید بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا اور انٹیلی جنس شیئرنگ، عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام کو مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا، شرکاء نے تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ریاض اجلاس مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت دفاعی شراکت داری کی مضبوطی کا عکاس ہے، اجلاس میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے وعدوں کو فوری طور پر مؤثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔ حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق حوثی جنگجوؤں کے فائر کیے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا گیا۔



