کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے نقیب اللہ محسود قتل کیس میں عدم شواہد کی بنیاد پر 7 ملزمان کو بری کر دیا۔
جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ جنوری 2018 میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں قتل ہوئے تھے۔ کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ طور پر سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں ہونے والے اس مبینہ انکاؤنٹر کو پولیس نے دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ قرار دیا تھا۔ تاہم جنوری 2019 میں عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں اسے ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے نقیب اللہ اور 3 دوسرے مقتولین کو معصوم قرار دیا تھا۔
جنوری 2023 میں اے ٹی سی نے راؤ انوار سمیت 4 ملزمان کو نقیب اللہ قتل کیس میں بری کر دیا تھا۔ ان ملزمان پر 25 مارچ 2019 کو فرد جرم عائد ہوئی تھی اور انہوں نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔
آج ہونے والی سماعت میں عدالت نے عدم شواہد کی بناء پر مقدمہ میں نامزد شعیب شوٹر اور امان اللہ مروت سمیت 7 ملزمان کو بری کر دیا۔ دیگر بری ہونے والے ملزمان میں گدا حسین، صداقت حسین، ریاض احمد، راجا شمیم اور محسن عباس شامل ہیں۔
ملزمان کے وکیل عابد زمان کا کہنا تھا کہ گرفتار پولیس اہلکاروں کےخلاف ایک بھی گواہ نے بیان نہیں دیا کہ مقابلہ جعلی تھا۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ راؤ انوار سمیت 18 پولیس افسران و اہلکاروں کو بری کیا جا چکا ہے جبکہ سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت سمیت 7 پولیس افسران و اہلکار مفرور تھے جنہوں نے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کے بعد سرنڈر کیا تھا۔
نقیب اللہ محسود جن کا شناختی کارڈ پر نام نسیم اللہ درج تھا، کراچی میں کاروبار کرتے تھے، اور ماڈلنگ کا شوق رکھتے تھے۔ قتل کے وقت ان کی عمر تقریباً 27 سال تھی۔
نقیب اللہ کا قتل ہائی پروفائل کیس تھا جس کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی نوٹس لیا تھا جس کے بعد سابق راؤ انوار 21 مارچ 2018 کو سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے جہاں عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولیس کو انہیں حراست میں لینے کا حکم دیا تھا۔
نقیب اللہ کے والد کی مدعیت میں درج یہ مقدمہ 5 سال بعد 23 جنوری 2023 کو نامزد راو انوار اور انکی ٹیم کی عدالت سے بریت کے بعد غیر متعلق ہوا۔ راؤ انوار نے نقیب اللہ پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا رکن ہونے کا الزام لگایا تھا جس کی تردید نہ صرف ان کے خاندان بلکہ کالعدم تنظیم کے جنوبی وزیرستان چیپٹر نے بھی کی تھی۔
قتل کے ایک سال عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ نقیب اللہ، صابر، نذر جان اور اسحاق کو کالعدم داعش اور لشکر جھنگوی کے دہشت گرد قرار دیکر ویران مقام پر قتل کیا گیا۔


