اسلام آباد پولیس نے 3 سالہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کر کے لاش چھپا دینے والا ملزم گرفتار کر لیا ہے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق دل دہلا دینے والا یہ واقعہ تھانہ نون کی حدود میں پیش آیا جہاں رشتے میں بہنوئی لگنے والے ملزم نے 3 سالہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کر کے اس کی لاش چھپا دی جسے پولیس نے برآمد کر لیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بچی کے لاپتا ہونے کی اطلاع پر تھانہ نون نے فوری طور پر مقدمہ درج کیا جبکہ تفتیش کے لیے ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے ایس پی انڈسٹریل زون ڈاکٹر ایاز حسین کی سربراہی میں پولیس ٹیمیں تشکیل دیں۔
تھانہ نون کی حدود میں تین سالہ بچی، (اپنی ہی سالی) کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا سفاک ملزم دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں گرفتار۔
تین سالہ بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع پر تھانہ نون پولیس نے فوری مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی،
ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے ایس پی انڈسٹریل زون…
— Islamabad Police (@ICT_Police) September 23, 2026
پولیس ٹیموں نے سی سی ٹی وی فوٹیج، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ذرائع کی مدد سے 2 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ملزم کو گرفتار کیا جس کے انکشاف و نشاندہی پر 3 سالہ بچی کی لاش برآمد کی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ لاش کو مزید قانونی کارروائی کے لیے پمز ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق بچی کی تلاش اور ملزم کی گرفتاری کے لیے 7 ٹیمیں تشکیل دی گئیں تھیں جبکہ پولیس کے تمام زونز کے ایس ایچ آوز نے سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔
ڈی آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے میں ملوث ملزم کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزاء دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘ساحل‘ کے مطابق اس سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران پورے پاکستان میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی یا استحصال کے کل ایک ہزار 914 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 49 شیر خوار بچے تھے۔
تنظیم نے اپنی رپورٹ میں جنوری سے جون 2026 کے درمیان بچوں کے جنسی استحصال کے ایک ہزار 15، اغوا کے 558، بچوں کے لاپتہ ہونے کے 101، کم عمری کی شادیوں کے 35 اور جنسی استحصال کے بعد فحش مواد (پورنوگرافی) سے متعلق 98 واقعات ریکارڈ کیے۔
تنظیم کے مطابق، متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے شامل تھے۔
11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، اور اس عمر کے گروپ میں متاثرین کی تعداد 598 رہی۔ اس کے بعد 16 سے 18 سال کی عمر کے 356، چھ سے 10 سال کی عمر کے 329 اور پانچ سال تک کی عمر کے 95 متاثرین شامل تھے۔ 487 واقعات میں متاثرین کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، مبینہ طور پر زیادتی یا استحصال کرنے والوں میں سے 43 فیصد متاثرین کے تعلق دار تھے، جبکہ 34 فیصد اجنبی تھے۔ 13 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم کی حیثیت یا تعلق کا ذکر نہیں کیا گیا۔
رپورٹ ہونے والے واقعات میں سے تقریباً 45 فیصد متاثرین کے گھروں میں پیش آئے، جبکہ 18 فیصد مبینہ ملزمان کے گھروں میں ہوئے۔ 3 فیصد واقعات کھلے میدانوں میں پیش آئے، جبکہ 21 فیصد واقعات میں مقام کی وضاحت نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رپورٹ ہونے والے واقعات میں سے 57 فیصد شہری علاقوں میں اور 43 فیصد دیہی علاقوں میں پیش آئے۔
