کراچی: میر رضا کیس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی گیارہویں سماعت جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہوئی۔ سماعت میں سیکریٹری صحت طاہر سانگی، ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد شہریار میمن اور پہلی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کے بیانات قلمبند کیے گئے۔
کمیشن نے میڈیکل بورڈ کی تبدیلی، پولیس تفتیش، خاندان کے بیانات ریکارڈ نہ کرنے، سی سی ٹی وی فوٹیج، میر رضا کے فون، پستول، گواہوں، گیسٹ ہاؤس، گاڑیوں اور مبینہ مالی معاملات پر سوالات کیے۔
میر رضا علی کراچی کے نوجوان تاجر تھے، جو 28 جولائی 2026 کو لاپتا ہوئے اور اگلے روز گلستانِ جوہر سے ان کی لاش ملی۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی کے امکان کے طور پر دیکھا گیا، تاہم بعد کی فرانزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹ نے خودکشی کو خارج کرتے ہوئے موت کی وجہ گولی لگنا قرار دیا۔ نوجوان تاجر کی قبر کشائی بھی کی گئی جبکہ کیس کی تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے پر سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ایک رکنی عدالتی کمیشن قائم کیا تھا۔
سماعت کے آغاز پر سیکرٹری صحت طاہر سانگی نے کمیشن کو بتایا کہ وہ پنجاب اور سندھ کے مختلف محکموں میں کام کرچکے ہیں، کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ شیخ سے متعلق سوال کیا تو سیکرٹری صحت نے بتایا کہ وہ ان کے ماتحت آتے ہیں۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اسامہ مسلسل لوگوں کو متنازع بنا رہے ہیں اور یہ رویہ سیکریٹری صحت کو بھی بدنام کرنے کی کوشش ہے۔
کمیشن نے سوال کیا کہ کہ میڈیکل بورڈ کس قانون کے تحت بنتا ہے؟ جس پر سیکرٹری صحت نے کہا کہ عدالت حکم دے تو محکمہ صحت بورڈ بناتا ہے، سربراہ کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “آپ کیا کورٹ پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں؟”
کمیشن نے پوچھا کہ کیا انہوں نے ڈی جی ہیلتھ شہریار میمن کو رات گئے میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کا کہا تھا۔ سیکرٹری صحت نے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ کا خط ملا تھا جس میں میڈیکل بورڈ تبدیل کرنے کی ہدایت تھی۔
سیکرٹری صحت نے کمیشن کی جانب سے خط طلب کیے جانے پر فراہم کردیا، ان کے مطابق خط میں پولیس سرجن کے بنائے بورڈ میں سینئر پیتھالوجسٹ اور فرانزک ماہرین شامل کرنے کی ہدایت تھی۔ کمیشن نے سوال کیا کہ خط میں پولیس سرجن کی نگرانی کا بھی ذکر ہے، کیا یہ نکتہ نظر انداز کیا گیا؟
سربراہ کمیشن نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا، “آپ کو اندازہ ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے؟”
سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ان کے خیال میں بورڈ میں سینئر افراد ہونے چاہئیں تاکہ شفافیت برقرار رہے، اس لیے انہوں نے ڈی جی ہیلتھ کو ایسا کرنے کا کہا۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا ان کے علم میں راتوں رات نیا بورڈ بنایا گیا۔ سیکرٹری صحت نے اعتراف کیا، “جی، میری نالج میں تھا، میں آن بورڈ تھا۔”
کمیشن نے سوال اٹھایا کہ کراچی کے ڈاکٹر نکال کر حیدرآباد کے ڈاکٹر شامل کیے گئے تو انہیں حیرت کیوں نہیں ہوئی۔ سیکریٹری صحت نے کہا کہ وہ حیدرآباد کے شامل کیے گئے ڈاکٹروں میں سے کسی کو نہیں جانتے۔
سربراہ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ شہریار میمن اور سیکرٹری صحت بورڈ کی تبدیلی کے معاملے پر ذمہ دار ہیں۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ میڈیا پر معاملہ چل رہا تھا اور خاندان بھی پہلے بورڈ پر راضی نہیں تھا، اس لیے بورڈ تبدیل کیا گیا۔
شہریار میمن سے عہدے، اختیار اور بورڈ تبدیلی پر سوالات
ڈی جی ہیلتھ شہریار میمن کا بیان ریکارڈ کرتے ہوئے کمیشن نے پوچھا کہ اسپیشل سیکرٹری کون ہوتا ہے اور کیا ایسی پوسٹ موجود ہے، شہریار میمن نے اسے کیڈر پوسٹ قرار دیا۔
کمیشن نے ان کی تعلیمی قابلیت پوچھی تو بتایا کہ انہوں نے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا اور کراچی میں ڈی سی کورنگی سمیت مختلف عہدوں پر کام کیا۔
کمیشن نے پوچھا، “ایسی کون سی خوبیاں ہیں کہ آپ کو اسپیشل سیکرٹری تعینات کیا گیا؟” بعد ازاں میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر سوال کیا گیا کہ کس اتھارٹی اور کس قانون کے تحت بورڈ تبدیل کیا گیا۔
شہریار میمن نے کہا کہ پہلا میڈیکل بورڈ ان کی سفارش پر بنا تھا، دوسرا ان کی سفارش پر نہیں بنایا گیا، انہوں نے بتایا کہ شام 5 سے 7 بجے کے درمیان ڈی جی ہیلتھ سے بات ہوئی تاہم رات گئے کوئی کال نہیں کی۔
شہریار میمن نے بتایا کہ وہ جولائی 2026 میں اسپیشل سیکرٹری بنے، کمیشن نے اے ایس پی شاہ زیب مشتاق کے بارے میں بھی پوچھا۔ شہریار میمن نے کہا کہ وہ انہیں نہیں جانتے، کمیشن سربراہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “ہم سے چالاکی نہ کریں، صحیح بات بتائیں۔”
شہریار میمن نے کہا کہ ڈی جی ہیلتھ جھوٹ بول رہے ہیں کہ انہوں نے بورڈ تبدیل کرنے کا کہا کمیشن نے پوچھا کہ پھر کس کے حکم پر بورڈ بنا، شہریار میمن نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں تاہم بعد میں تسلیم کیا کہ بورڈ کی تبدیلی ان کی نالج میں تھی۔
کمیشن نے پوچھا کہ کیا نئے میڈیکل بورڈ کا نوٹیفکیشن جعلی ہے؟ شہریار میمن نے کہا کہ نہیں، نوٹیفکیشن اصلی ہے، سپر میڈیکل بورڈ سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے خط موصول ہوا ہے۔
ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو سے تفتیش پر سخت سوالات
ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے بتایا کہ ایس آئی او کی بنیادی ذمہ داری کریمنل کیسز کی تفتیش ہے، سربراہ کمیشن نے پوچھا کہ تفتیش سونپے جانے کے وقت کون کون ساتھ تھا جس پر ایس ایس پی نے زبیر نذیر شیخ، شبیر لغاری اور ارشد جاوید سمیت دیگرافسران کا ذکر کیا۔
کمیشن نے خاندان کے بیانات ریکارڈ نہ کرنے کی وجہ پوچھی جس پر ایس ایس پی نے کہا کہ انہوں نے زبیر نذیر شیخ کو والد سے رابطے کی ہدایت کی تھی اور میر رضا کے والد نے ملنے سے انکار کیا تھا، میر رضا کے والد نے کمیشن کے سامنے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کوئی کال نہیں آئی۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ 3 اگست کو خاندان سے ملاقات ہوئی، کمیشن نے پوچھا کہ خاندان کا بیان ریکارڈ کیے بغیر کیسے معلوم ہوا کہ واقعہ خودکشی ہے۔
کمیشن نے یہ بھی پوچھا کہ ایس ایس پی میڈیا سے بات کرتے رہے اور خودکشی کا کہتے رہے۔ ایس ایس پی نے جواب دیا کہ خاندان سے تعاون نہ ہونے پر میڈیا سے بات کی۔
سربراہ کمیشن نے پوچھا کہ کیا انہیں نہیں لگا کہ تفتیش ابھی شروع ہوئی ہے اور وہ بیان دے رہے ہیں۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ 3 اگست کو ہثیم، احمد اور رازق کے بیانات لیے گئے اور کرائم سین کا دورہ کیا گیا۔
جسٹس عمر سیال نے پوچھا کہ کیا وہ تفتیشی افسر شبیر لغاری کی کارکردگی سے مطمئن تھے، ایس ایس پی نے کہا کہ وہ مطمئن نہیں تھے، کمیشن نے پھر سوال کیا کہ عدم اطمینان کے باوجود تفتیشی افسر کو کیس میں کیوں رکھا گیا۔
پچاس سے زائد کیمروں کے باوجود صرف ایک ویڈیو؟ کمیشن برہم
سربراہ کمیشن نے پوچھا کہ کتنے کیمرے اور کتنے مقامات تفتیش کے دائرے میں تھے، کیا کہ “52 کیمروں کی موجودگی میں آپ نے صرف ایک ویڈیو لی؟” کمیشن سربراہ نے ایس ایس پی سے کہا، “آپ سربراہ تھے، اپنی غلطی مان لیں۔”
میر رضا کے فون سے متعلق سوال پرایس ایس پی نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ فون پھینکنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج درست ہے یا نہیں۔ کمیشن نے پوچھا کہ فون کس نے اٹھایا۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ انہوں نے تفتیشی افسر سے پوچھا تھا لیکن اس نے ویڈیو نہ دیکھنے کا جواب دیا۔
سجاد نامی شخص کے فون اٹھانے کے معاملے پر بھی سوال ہوا۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ انہوں نے بی آر ٹی کے ایک ملازم کا انٹرویو کیا تھا لیکن بیان ریکارڈ نہیں کیا۔
جسٹس عمر سیال نے پولیس چیف آزاد خان کی جانب سے خاندان کو کوئی پریزنٹیشن دکھانے کے بارے میں پوچھا تو ایس ایس پی نے کہا کہ ان کے علم میں ایسی بات نہیں۔
پستول کے کور سے متعلق پوچھا گیا تو ایس ایس پی نے بتایا کہ 31 جولائی کو پستول کا کور ملنے کا علم تھا۔ 6 اگست کو لاش ملنے والے مقام پر آگ لگنے کی اطلاع بھی ملی تھی۔
سربراہ کمیشن نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا، “آپ نے پورے کیس کو تباہ کردیا، آپ بھی مجرم دکھائی دے رہے ہیں۔”
جائے وقوع پر آگ کس کے کہنے پر لگائی گئی؟ سوال پر ایس ایس پی نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں، کمیشن نے پولیس کے طرزعمل پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔
تین کروڑ روپے، کرپٹو کرنسی اور گواہوں کے بیانات
سربراہ کمیشن نے پوچھا کہ کیا میر رضا نے گواہ صارم بن طاہر سے 3 کروڑ روپے مانگے تھے۔ ایس ایس پی نے کہا کہ ان کے انٹرویو میں یہ بات سامنے آئی تھی، 80 لاکھ روپے کے ذکر سے متعلق بھی انہوں نے لاعلمی ظاہر نہیں کی۔
کمیشن نے پوچھا کہ 3 کروڑ روپے کا اسکرین شاٹ میڈیا کو کس نے دیا۔ ایس ایس پی نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں، ایس ایچ او نے اسکرین شاٹ ایس ایس پی ایسٹ کو دیا تھا، جہاں سے انہیں بھیجا گیا۔
علی شاز کے وائس نوٹ کے بارے میں ایس ایس پی نے بتایا کہ اے ایس پی ندا جنید نے انہیں نوٹ بھیجا تھا اور کہا تھا کہ علی شاز 20 افراد پیش کرسکتے ہیں جو پولیس کی مدد کرسکتے ہیں۔
کمیشن نے نشاندہی کی کہ 24 اگست تک علی شاز کا بیان کسی پولیس اہلکار نے ریکارڈ نہیں کیا تھا۔
سربراہ کمیشن نے پوچھا کہ تفتیش میں بلیک میلنگ یا مالی مسائل سے متعلق کیا معلومات ملیں۔ ایس ایس پی نے کہا کہ صرف دوستوں کے بیانات تھے۔
کرپٹو کرنسی کے بارے میں ایس ایس پی نے بتایا کہ احمد، رازق، صارم اور ہثیم کے بیانات میں یہ بات سامنے آئی کہ میر رضا کرپٹو ٹریڈنگ کرتے تھے، تاہم رقم اور نقصان کی تفصیلات نہیں مل سکیں۔
اے ایس پی ندا، گیسٹ ہاؤس اور گاڑیوں کی تفتیش
کمیشن نے اے ایس پی ندا جنید کے کردار پر سوال کیا۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ انہیں منگیتر کا انٹرویو لینے کیلئے بھیجا گیا تھا۔ 4 اگست کو پولیس چیف آزاد خان کی ہدایت پر پولیس سرجن سے ملاقات ہوئی، جس میں اے ایس پی ندا بھی موجود تھیں۔
ایس ایس پی کے مطابق اس وقت انہیں ندا اور شاہ زیب کے مبینہ رابطے کا علم نہیں تھا۔ پولیس سرجن سے کہا گیا کہ وہ خاندان سے بات کریں کیونکہ خاندان تعاون نہیں کررہا تھا۔
قبر کشائی کی تجویز بھی پولیس سرجن نے دی تھی۔ جیو فینسنگ کیلئے 31 جولائی کو خط بھیجا گیا لیکن جواب نہیں آیا۔
سربراہ کمیشن نے سفید آلٹو اور سلور گرے سوئفٹ سمیت گاڑیوں کے بارے میں سوالات کیے۔ کمیشن نے کہا کہ پانچ افراد گاڑی میں دیکھے گئے لیکن سب سے تفتیش نہیں کی گئی۔ ایک موٹرسائیکل سوار کے بارے میں بھی سوال ہوا جو جائے وقوعہ پر چکر کاٹ رہا تھا۔
گیسٹ ہاؤس کے بارے میں ایس ایس پی نے بتایا کہ وہاں سمیجو کاسٹ کے 9 افراد موجود تھے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا ڈی وی آر عدیل افضال لے کر گیا تو کیا انہیں علم نہیں ہوا۔
خاندان نے مؤقف اختیار کیا کہ گیسٹ ہاؤس میں غیر اخلاقی سرگرمیاں جاری تھیں اور پولیس کی جانب سے 9 افراد کو حراست میں لینے کے باوجود شناخت پریڈ کیلئے خاندان کو نہیں بلایا گیا۔
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ تفتیش سے لگتا ہے کہ صرف ایک پہلو پر کام کیا گیا۔ ایس ایس پی نے کہا کہ چھ دنوں میں حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں تھا۔
سربراہ کمیشن نے کہا کہ تفتیش پیسے اور خودکشی کے پہلو پر مرکوز رہی۔ ایس ایس پی نے جواب دیا کہ چھ دنوں میں دو پوسٹ مارٹم، پولیس سرجن کے متضاد بیانات اور دیگر پہلو سامنے آئے تھے۔
پستول کے بارے میں ایس ایس پی نے بتایا کہ سی سی ٹی وی سے معلوم ہوا کہ کچرا چننے والے لوگ موجود تھے، تاہم کسی کو پستول اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
آخر میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ڈاکٹر اسامہ کو بلائے جانے پر بھی سوال ہوا۔ ایس ایس پی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کیس کی پیش رفت کے حوالے سے بات کررہے تھے۔
کمیشن کی جانب سے کارروائی 15 اکتوبر تک جاری رکھنے کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور محکمہ داخلہ کو خط لکھا گیا ہے۔ ڈی ایس پی سراج لاشاری اور سی پی ایل سی کے کاشف افتخار کو 28 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔
کمیشن کے سامنے بار بار جھوٹ بولا جاتا ہے، جبران ناصر
کیس کی سماعت کے بعد وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے سامنے بار بار جھوٹ بولا جاتا ہے، کئی معاملات میں حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ نے 6 اگست کو بیان دیا تھا کہ میر رضا کیس 90 فیصد ٹریس ہوچکا ہے، تاہم آئی جی کے بیان کے صرف دو دن بعد قبرکشائی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کیس 90 فیصد ٹریس ہوچکا تھا تو پھر دو روز بعد قبرکشائی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے افسران سے بھی مختلف معاملات پر سوالات کیے گئے ہیں۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ میر رضا کیس میں تحقیقات کے حوالے سے کئی اہم سوالات اب بھی موجود ہیں، جن کے جوابات کمیشن کی کارروائی کے دوران سامنے آ رہے ہیں۔



