وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کیلئے پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ترقی کے عمل کو تیز کرنے اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مضبوط کثیر الجہتی تعاون پر زور دیا ہے۔
چین کے نائب صدر ہان ژینگ کی میزبانی میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو پر اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی آفات، خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ترقی پذیر ممالک کو درپیش چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے، ایسے میں گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کووڈ 19 کی وبا کے عروج کے دوران 5 سال قبل صدر شی جن پنگ نے عالمی ترقیاتی اقدام (گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو) پیش کیا تھا، یہ ایک ایسا دور اندیش اقدام تھا جو اپنے وقت سے کہیں آگے تھا، آج دنیا صدر شی جن پنگ کے اس فیصلے کے پس منظر میں کار فرما دانائی اور بصیرت کو تسلیم کرتی ہے۔
پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب پیشرفت ناکافی اور سست ہے
انہوں نے کہا کہ 2030 کی اس اقدام کی مقررہ مدت پوری ہونے میں اب 4 برس رہ گئے ہیں جبکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب پیشرفت اب بھی ناکافی اور سست ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی جمہوریہ چین اور اس کے عالمی ترقیاتی اقدام نے اس ضمن میں بروقت پیشرفت کی ، عالمی ترقیاتی اقدام کا فریم ورک پہلے ہی ترقی پذیر دنیا میں ٹھوس اور عملی فوائد میں تبدیل ہو چکا ہے، اس اقدام نے سب کے لئے فائدے کی حقیقی روح کے مطابق فائدہ پہنچایا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جی ڈی آئی کی مکمل حمایت کی توثیق کرتا ہے کیونکہ یہ یکجہتی کرہ ارض کے جنوبی ممالک کے تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لئے ٹھوس نتائج کی فراہمی کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے ، جی ڈی آئی کے اہداف ہمارے قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے کی بھی تکمیل کرتے ہیں۔
پاکستان جی ڈی آئی کے شراکت داروں کیساتھ تعاون مزید وسیع کرنے کیلئے تیار
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے ہم 2030 کی طرف بڑھ رہے ہیں پاکستان جی ڈی آئی کے تمام شراکت داروں کے ساتھ تعاون مزید وسیع کرنے کے لئے تیار ہے ، کامیاب منصوبوں کی بڑے پیمانے پر نقل کر کے نیز تعاون کے نئے اور جدت پر مبنی شعبوں کی نشاندہی کرکے تعاون بڑھا رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی ترقیاتی اقدام 2030 کے ایجنڈے پر پیش قدمی تیز کرنابھی ضروری ہے، ساتھ ہی ساتھ عالمی حکمرانی اقدام ،عالمی حکمرانی کے لئے ایک زیادہ نمائندہ ڈھانچہ کا متلاشی ہے، ایسا ڈھانچہ جو ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کے مطابق ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے مضبوط ترین دوست چین اور گروپ آف فرینڈز کے ساتھی ممبران کے ساتھ ساتھ مسلسل قریبی تعاون کے منتظر ہیں تاکہ ہم مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے تصور کو آگے بڑھائے۔
پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے ذریعے ترقی کا عمل آگے بڑھا رہا ہے
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور اس کے اہم منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے بھی ترقی اور تعاون کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔ پاکستان چین اور گروپ آف فرینڈز کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کے یو این 80 اقدام کو اقوام متحدہ کے ترقیاتی ستون کو مضبوط کرنا چاہئے، اس اقدام کو عملی سطح پر نتائج فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت کو بھی بہتر کرنا چاہئے۔ پاکستان ان تمام انتہائی اہم اقدامات کا پختہ حامی ہے اور رہے گا۔



