خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے یمنی حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی حمایت کے لیے اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
رائٹرز نے سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ملاقات بھی کی، جس میں مکہ سمیت دیگر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت اور سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ تینوں ممالک کے چیف آف اسٹاف کا ہنگامی اجلاس بلانے کی تیاریوں پر بھی بات ہوئی، جس میں مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔
Met with my brothers, Foreign Minister of Saudi Arabia Prince Faisal bin Farhan Al Saud @FaisalbinFarhan and Foreign Minister of Türkiye Hakan Fidan @HakanFidan, along with our respective delegations, on the sidelines of the 81st Session of the United Nations General Assembly in… pic.twitter.com/OOwWdMVZtl
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) September 25, 2026
معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔ حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق حوثی جنگجوؤں کے فائر کیے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا گیا۔
سعودی عرب نے اس سے قبل مکہ، جدہ اور ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کیے تھے۔ ینبع بحیرہ احمر پر سعودی عرب کی اہم تیل بندرگاہ ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک کی اعلیٰ مذہبی اتھارٹی نے فوجیوں پر زور دیا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف لڑنے اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لیے جان قربان کرنے تک تیار رہیں۔
حوثیوں نے یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف بھی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے باعث دنیا کے سب سے بڑے انرجی ایکسپورٹر، سعودی عرب، سے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے حوثیوں کے حالیہ اقدامات سے خود کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو امریکی ٹی وی چینل ’فوکس نیوز‘ کے پروگرام میں کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست لڑائی میں عارضی وقفہ ہے اور نیویارک میں سفارتی رابطوں کی ایک مختصر کوشش بھی ہوئی، جس میں قطر نے ثالث کا کردار ادا کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایک تجویز بھیجی ہے، جس کے تحت ایرانی شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
ان کے مطابق اس تجویز کے تحت لبنان سمیت تمام محاذوں پر 7 روز کے اندر جنگ بندی ہوگی، جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا پابند ہوگا۔
عراقچی نے کہا کہ معاہدے کے آخری روز آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جس کے بعد امریکا کے ساتھ دیگر معاملات، جن میں ایران کا جوہری پروگرام بھی شامل ہے، پر مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔
رائٹرز کے مطابق فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست لڑائی ٹھنڈی پڑنے کے باوجود خطے میں کشیدگی جاری ہے۔ لبنان میں حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی میں ہے، جبکہ حوثی یمن میں اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حوثیوں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر بحری آمدورفت متاثر کی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹینکروں کی آمدورفت محدود کر رکھی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی برآمدات اس راستے سے گزرتی تھیں۔



