وفاقی حکومت نے توشہ خانہ رولز 2026 جاری کر دیے ہیں، جن کا فوری طور پر نفاذ کردیا گیا ہے، نئے قواعد کے تحت صدر اور وزیراعظم کے علاوہ تمام سرکاری عہدیداران کو سرکاری حیثیت میں ملنے والے تحائف قبول کرنے سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق سرکاری عہدیداران اور سرکاری وفود کے ساتھ موجود نجی افراد کو ذاتی استعمال یا خاندان کے لیے تحائف لینے سے بھی منع کردیا گیا ہے۔ تاہم اگر سفارتی یا ثقافتی روایات کے باعث کسی تحفے کو قبول کرنے سے انکار ممکن نہ ہو تو اسے لازماً توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔
نئے توشہ خانہ رولز کے تحت سرکاری عہدیدار یا سرکاری وفد کے کسی نجی فرد کو ملنے والا ہر تحفہ بھی توشہ خانہ میں جمع کرانا لازمی ہوگا، اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گریڈ 1 سے 4 تک کے سرکاری ملازمین سفارتی شخصیات سے ملنے والے نقد انعامات اپنے پاس رکھ سکیں گے تاہم اگر گریڈ 1 سے 4 کا کوئی ملازم نقد انعام کی حوصلہ افزائی کرے گا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
قواعد کے مطابق تحفہ ملنے کے 30 دن کے اندر اسے توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔ غیر ملکی دورے کے دوران ملنے والے تحائف پاکستان واپسی کے 30 دن کے اندر جمع کرانا لازم ہوگا، جبکہ اگر تحفہ الگ سے پاکستان بھجوایا جائے تو اسے 60 دن کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا۔
نئے قواعد کا مقصد سرکاری عہدیداران کو سرکاری حیثیت میں ملنے والے تحائف کی وصولی، اعلان اور توشہ خانہ میں جمع کرانے کے طریقہ کار کو واضح کرنا ہے۔
تحفے کی وصولی کیلئے باقاعدہ ڈکلیئریشن لازم
اعلامیے کے مطابق تحفے کا اعلان کابینہ سیکرٹری کے نام سادہ خط کے ذریعے کرنا ہوگا، جس پر تحفہ وصول کرنے والے شخص کے دستخط لازمی ہوں گے، ڈکلیئریشن میں تحفے یا تحائف کی مختصر تفصیل بھی درج کرنا ہوگی۔
تحفہ وصول کرنے والا شخص خود یا اس کی جانب سے باقاعدہ مجاز شخص تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرا سکے گا، تحفہ جمع ہونے پر کابینہ ڈویژن کا متعلقہ افسر تحفے کی مختصر تفصیل اور تصویر پر مشتمل رسید جاری کرے گا۔
گریڈ 1 تا 4 کے ملازمین کیلئے نقد انعام سے متعلق خصوصی شق
نئے قواعد میں گریڈ 1 سے 4 تک کے ملازمین کیلئے سفارتی شخصیات سے ملنے والے نقد انعامات رکھنے کی اجازت دی گئی ہے تاہم اگر کوئی ملازم نقد انعام کی حوصلہ افزائی کرے گا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
کھانے پینے کی معمولی اشیا کیلئے استثنیٰ
معمولی مالیت اور مقدار کی کھانے پینے کی اشیا کو ڈکلیئر کیے بغیر رکھنے کی اجازت ہوگی تاہم سرکاری یا عوامی مقصد کیلئے ملنے والی اشیا کی وصولی اور استعمال کی صورتحال کابینہ ڈویژن کو بتانا ہوگی۔
زندہ جانوروں کے تحائف ڈکلیئر کرنے کے بعد قریبی ریماؤنٹ ویٹرنری اینڈ فارمز کور کو منتقل کیے جائیں گے۔
یادگاری اشیا کیلئے بھی خصوصی قواعد
ادارے کی سطح پر ڈسپلے کیلئے دی گئی تحریر شدہ یادگاری اشیا توشہ خانہ میں جمع یا ڈکلیئر نہیں کرانا ہوں گی تاہم انہیں متعلقہ ادارے کی عمارت میں ڈسپلے کرنا ہوگا۔
اسی طرح وصول کنندہ کیلئے ذاتی تحریر والی ڈسپلے کیلئے تیار یادگاری اشیا بھی توشہ خانہ میں جمع یا ڈکلیئر نہیں کرانا ہوں گی تاہم انہیں وصول کنندہ کے دفتر کی عمارت میں ڈسپلے کرنا لازم ہوگا۔
نجی جگہ پر یادگاری شے رکھنے کی صورت میں اس کی مالیت معمولی ہونا ضروری ہوگی اور وصول کنندہ کو کابینہ ڈویژن کو ڈکلیئریشن دینا ہوگا۔
تحائف کی مالیت کا تعین ایف بی آر اور نجی ماہر کریں گے
قواعد کے تحت تحائف کی مارکیٹ ویلیو فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور نجی شعبے کے متعلقہ ماہر سے لگوائی جائے گی، نجی ایویلیویٹر متعلقہ اہلیت کا حامل ہوگا اور اسے کھلے اشتہار کے ذریعے مقرر کیا جائے گا۔
ایف بی آر اور نجی ایویلیویٹر کی تشخیص کی اوسط کو تحفے کی اسیسڈ مارکیٹ ویلیو قرار دیا جائے گا، دونوں قیمتوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق ہونے کی صورت میں معاملہ تیسرے نجی ایویلیویٹر کو بھیجا جائے گا۔
ہتھیاروں کے تحائف کی مالیت پاکستان آرڈننس فیکٹریز واہ سے لگوائی جائے گی اور پی او ایف کی مقرر کردہ مالیت ہی اسیسڈ مارکیٹ ویلیو تصور ہوگی۔
توشہ خانہ کے موجودہ اور مستقبل کے تحائف اوپن آکشن میں فروخت ہوں گے
نئے رولز کے مطابق توشہ خانہ میں موجود تمام موجودہ اور مستقبل کے تحائف اوپن آکشن کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے، کابینہ ڈویژن کمیٹی کی منظوری سے تحائف کی اوپن پبلک آکشن کرے گا جبکہ کمیٹی ضرورت پڑنے پر ماہرین سے رائے بھی لے سکے گی۔
نیلامی ڈسپوزل آف پبلک ایسٹس ریگولیشنز 2024 یا بعد میں جاری ہونے والے متعلقہ قواعد کے مطابق ہوگی، ہر تحفے کیلئے ریزرو پرائس اسیسڈ مارکیٹ ویلیو سے کم نہیں ہوگی جبکہ تین ماہ سے زیادہ پرانی اسیسڈ مارکیٹ ویلیو کو ریزرو پرائس کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
نیلامی کی براہ راست میڈیا کوریج ہو گی
قواعد کے تحت نیلامی کی براہ راست میڈیا کوریج وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے کرائی جائے گی، توشہ خانہ تحائف کی نیلامی ترجیحاً ہر دو سال بعد ہوگی تاہم کم از کم ہر مالی سال میں ایک مرتبہ نیلامی کرنا لازم ہوگا۔
نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم الگ اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی اور اسے ملک کے انتہائی پسماندہ علاقوں میں خواتین کی پرائمری تعلیم کے فروغ کیلئے استعمال کیا جائے گا، اس رقم کا اکاؤنٹ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے پاس ہوگا جبکہ رقم خرچ کرنے کیلئے وزیراعظم کی پیشگی منظوری ضروری ہوگی۔
قدیم اور حساس نوعیت کے تحائف نیلام نہیں ہوں گے
قدیم قرار دیے جانے والے، ثقافتی یا تاریخی اہمیت رکھنے والے تحائف نیلام نہیں کیے جائیں گے، قدیم، ثقافتی یا تاریخی اہمیت کے تحائف کا تعین متعلقہ کمیٹی کرے گی۔
اسی طرح قیمتی یا سفارتی و بین الاقوامی حساسیت رکھنے والے تحائف بھی نیلامی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
توشہ خانہ ریکارڈ کا سالانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ ہو گا
ہر مالی سال کے اختتام پر توشہ خانہ میں موصول اور نمٹائے گئے تمام تحائف کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا، جمع کرائے گئے تمام تحائف کا ریکارڈ برقرار رکھا جائے گا، جس میں تحفہ وصول ہونے کی تاریخ، وصول کنندہ اور جمع کرانے والے کے نام شامل ہوں گے۔
ریکارڈ میں تحفے کی اسیسڈ مارکیٹ ویلیو، اسیسمنٹ کی تاریخ، نیلامی کی تاریخ، مقررہ ریزرو پرائس اور اصل نیلامی قیمت بھی درج کی جائے گی، تحفہ جمع ہونے یا اس سے متعلق نئی معلومات دستیاب ہونے کے اسی دن ریکارڈ اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔
ویب پورٹل پر ماہانہ بنیاد پر معلومات اپ ڈیٹ ہوں گی
کابینہ ڈویژن ویب پورٹل پر دستیاب معلومات ہر ماہ کی آخری تاریخ تک اپ ڈیٹ کرے گا تاہم تحفہ پیش کرنے والے معزز شخص کا نام اور ملک ویب پورٹل پر شائع نہیں کیا جائے گا۔
نئے قواعد کے اجرا کے ساتھ تحائف کی قبولیت اور تلفی کا 2023 کا طریقہ کار ختم کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ وقت میں تحفہ ڈکلیئر اور توشہ خانہ میں جمع نہ کرانے پر قانون کے تحت کارروائی شروع کی جائے گی تاہم کارروائی سے قبل متعلقہ شخص کو صفائی پیش کرنے کا مناسب موقع دیا جائے گا۔



