سعودی ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ مسجد الحرام کے مؤذن شیخ ابراہیم المدنی انتقال کر گئے۔
شیخ ابراہیم المدنی کی نمازِ جنازہ آج نمازِ عصر کے بعد مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں ادا کی جائے گی، اس کے بعد انہیں جنت المعلیٰ قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
مسجد الحرام میں ان کی آخری اذان پیر کے روز فجر کی پہلی اذان تھی، حرمین کے ذرائع نے پیر کی صبح سویرے کی ویڈیو شیئر کی، جس میں ال مدنی کو اذان دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ اذان ان کے انتقال سے چند گھنٹے قبل دی گئی تھی۔
حرمین کے ایکس اکاؤنٹ پر شیخ ابراہیم المدنی کی تصویر جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ کبھی کبھی وہ مسجدِ الحرام کی ’مکبریہ‘ میں کئی کئی دن بالخصوص رات کے آخری پہر میں عبادت اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے میں مشغول رہتے تھے۔
انا لله وانا اليه راجعون
The final Adhan raised by Sheikh Ibrahim Al Madni in Masjid Al Haram on 11 Rabi Al Awwal 1448 https://t.co/ymLbxdLRUW
— Inside the Haramain (@insharifain) September 21, 2026
شیخ ابراہیم المدنی کی وفات پر ان کے چاہنے والوں نے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔
شیخ ابراہیم المدنی 1976 میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، وہ ایک مذہبی گھرانے میں پلے بڑھے اور اپنے حافظ قرآن دادا سے گہرا اثر لیا، بعد ازاں انہوں نے علومِ قرآن میں تعلیمی ڈگری حاصل کی۔
مؤذن کی حیثیت سے ان کا سفر بہت کم عمری میں شروع ہوا۔ 15 سال کی عمر میں انہوں نے مدینہ منورہ کی ایک مقامی مسجد میں اذان دینا شروع کی۔
1428 ہجری (2007-2008) میں انہیں مسجد المداح میں اذان دینے کی دعوت دی گئی، جہاں وہ اس وقت تک خدمات انجام دیتے رہے جب تک انہیں مسجد الحرام مکہ مکرمہ میں مؤذن کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا موقع نہیں ملا۔ 1439 ہجری (2017-2018) میں انہیں باقاعدہ طور پر مسجد الحرام کا مؤذن مقرر کیا گیا۔


