لاہور: حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے سکیورٹی خدشات کے باعث لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کر دی جبکہ جماعت اسلامی نے ہرصورت لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ختم ہو گیا، حکومتی وفد میں وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق شریک ہوئے، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، معاون خصوصی عمیر ادریس، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی نے شرکت کی۔
حکومتی وفد نے سکیورٹی خدشات کے باعث جماعت اسلامی سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کو جلد عوامی سطح پر غیر معمولی ریلیف دینے کی یقین دہانی بھی کراتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا دباؤ ہے اور جلد وفد کی پاکستان آمد بھی متوقع ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے دوٹوک کہا کہ لیوی کے خاتمے تک لانگ مارچ لازم ہو گا۔ جبکہ حکومت عوامی مطالبات پر عملی اقدام کرے، ورنہ احتجاج اور لانگ مارچ ضرور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں سپر لانگ مارچ کل کراچی سے شروع ہو گا۔
اس سے قبل حکومت وفد اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور 15 ستمبر کو ہوا تھا۔ جس میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے حکومت کے فیول ریلیف اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پیٹرولیم لیوی میں کمی سمیت بنیادی مسائل کے مستقل حل پر زور دیا تھا۔
عوام کو ریلیف کی فراہمی شہباز شریف کی اولین ترجیح ہے، حکومتی وفد
حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کی سفارشات وزیراعظم تک پہنچانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی شہباز شریف کی اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے جماعت اسلامی کے وفد کو بتایا تھا کہ حکومت نے حالیہ بحران کے دوران ملک بھر میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی ہے، جبکہ صارفین کے تحفظ اور ایندھن کی دستیابی کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کا وفد کو 7 روزہ رولنگ ایوریج پر مبنی پیٹرولیم قیمتوں کے نظام پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ موٹر سائیکلوں، چنگچی رکشوں، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے، جو مستحق طبقات تک ریلیف پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
اس سے قبل جماعت اسلامی کا حکومت وفد سے مذاکرات کا پہلا دور 7 ستمبر اور دوسرا دور 11 ستمبر کو ہوا تھا۔ جس میں حکومتی وفد کی جانب سے جماعت اسلامی سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے ملک بھر کے بڑے شہروں میں دھرنے جاری ہیں۔ اور 20 ستمبر کو ملک کے تمام حصوں سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔



