کراچی: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے گورنر ہاؤسز کے اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ چار گورنر ہاؤسز کے لیے تقریباً 5 ارب روپے کا بجٹ مختص ہے جبکہ ملک کے عوام اپنے پیٹ کاٹ کر بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گورنر ہاؤسز میں آخر کیا کام کیا جاتا ہے؟ ان کے مطابق سرکاری عمارتوں اور وسائل کو عوامی مفاد میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا گورنر ہاؤس یونیورسٹی ہونا چاہیے تھا جبکہ جماعت اسلامی کو موقع ملا تو تمام گورنر ہاؤسز کو آئی ٹی یونیورسٹیوں میں تبدیل کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہاؤسز میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا عام عوام سے کوئی تعلق نہیں جبکہ عوام مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کررہے ہیں۔
پیٹرولیم قیمتوں میں 130 سے 140 روپے اضافہ کیسے ہوا؟
امیر جماعت اسلامی نے حکومتی معاشی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 130 سے 140 روپے فی لیٹر تک اضافہ کیسے ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں تیل کی قیمتوں میں صرف 10 یا 30 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان میں عوام پر اس کا زیادہ بوجھ منتقل کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں کی نالائقی کے باعث ملکی معیشت کمزور ہوئی اور عام آدمی مہنگائی سے متاثر ہوا۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کا پانچواں دور، لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست
دوسری جانب پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور بھی مکمل ہوگیا۔ مذاکرات میں حکومتی وفد کی نمائندگی وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ اور پنجاب کے صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کی جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ کی قیادت میں وفد شریک ہوا۔
مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے سکیورٹی تھریٹ کا حوالہ دیتے ہوئے جماعت اسلامی سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تاہم لیاقت بلوچ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے تک لانگ مارچ ضرورہوگا۔
حکومتی وفد نے جلد عوامی سطح پر غیر معمولی ریلیف دینے کی یقین دہانی بھی کرائی اور مذاکرات میں آئی ایم ایف کے دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کا وفد جلد پاکستان آنے کی توقع ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت عوامی مطالبات پر عملی اقدام کرے بصورت دیگر احتجاج اور لانگ مارچ کیا جائے گا، ان کے مطابق پروگرام کے تحت حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں سپر لانگ مارچ 20 ستمبر کو کراچی سے شروع ہوگا۔
پس منظر: جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت عوامی مطالبات پر مذاکرات کا آغاز 7 ستمبر کو ہوا تھا۔ جماعت اسلامی نے لیوی ختم نہ ہونے کی صورت میں 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب سپر لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔



