اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے خلع لینے والی خاتون کو 7 تولہ سونے کے بجائے ڈھائی لاکھ روپے حق مہر واپس کرنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے شہری کی درخواست خارج کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں حق مہر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس شاہ رخ ارجمند نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نکاح نامے میں حق مہر زیورات کے بجائے رقم کی صورت میں درج تھا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ 2010 میں نکاح کے وقت 7 تولہ سونے کے برابر ڈھائی لاکھ روپے حق مہر نکاح نامے میں درج کیے گئے تھے، جبکہ نکاح نامے یا کسی متعلقہ دستاویز میں 7 تولہ سونا دیئے جانے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
ٹرائل کورٹ نے بھی 7 تولہ سونے کے بجائے ڈھائی لاکھ روپے واپس کرنے کا حکم دیا تھا، جسے اسلام آباد ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون اور اس کے والد نے حق مہر میں سونا وصول کرنے کا بیان دیا تھا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ محض زیورات وصول کرنے کا اعتراف ان کے وزن کو ثابت نہیں کرتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ 7 تولہ سونا حق مہر میں دیئے جانے کا دعویٰ ٹھوس شواہد سے ثابت نہیں ہوسکا۔


