اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیتموں میں اضافے کے باعث کفایت شعاری اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ملک بھر میں مارکیٹیں رات 9 بجے، شادی ہال رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس رات 11 بجے بند کردیے جائیں گے جب کہ شادی کی تقاریب میں صرف ون ڈش ہوگی، فارمیسی، اسپتال، لیبارٹری، جم، بیکری، دودھ کی دکانیں اور تندور اس نئے اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گے۔
وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پروگرام کے تحت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کا کوٹا 50 فیصد کم اور متعدد سرکاری اخراجات پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کٹوتی کا فیصلہ 3 ماہ کے لیے نافذ العمل ہو گا، تاہم ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں پر اس فیصلے کا اطلاق نہیں ہو گا۔ نان ای آر ای بجٹ میں ماہانہ 5 فیصد کٹوتی بھی کی جائے گی۔
وفاقی حکومت نے تمام اقسام کی نئی سرکاری گاڑیاں خریدنے پر مکمل پابندی عائد کر دی، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) آلات کے علاوہ تمام پائیدار اشیا کی خریداری بھی ممنوع قرار دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں اور سفر پر 3 ماہ کے لیے پابندی ہو گی۔ جبکہ ناگزیر صورت میں وزرا کو صرف اکانومی کلاس میں سفر کرنا ہو گا، جبکہ غیر ملکی وفود کے علاوہ تمام سرکاری عشائیوں کی تقریبات پر بھی پابندی ہو گی۔
کفایت شعاری پروگرام کے تحت سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے، غیرملکی وفود کے سوا سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر مکمل پابندی ہوگی، سرکاری سطح پر سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز پر پابندی ہوگی جبکہ انتہائی ضروری نوعیت کی سرکاری تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریم اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق شادی کی تقاریب میں صرف سنگل ڈش پیش کی جائے گی۔
وفاقی حکومت نے صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی انہی خطوط پر کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات اپنانے کی ہدایت کر دی۔
حکومت نے اس سے قبل 9 مارچ کو ایران جنگ کے معاشی اثرات کم کرنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات نافذ کیے تھے۔ ان اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے الاؤنس میں 50 فیصد کمی، ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کٹوتی اور سرکاری شعبے میں جزوی طور پر گھر سے کام کرنے کی پالیسی شامل تھی۔
تاہم وفاقی حکومت نے 19 جون کو مارکیٹوں کے اوقاتِ کار کے علاوہ یہ تمام اقدامات ختم کر دیے تھے۔
تازہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل کے اہم راستے متاثر ہوئے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکا اور ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کے علاوہ، باب المندب کے راستے سے ہونے والی تجارت کو بھی حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں یہ راستہ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم گزرگاہ بن گیا ہے۔



