واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے روس اور ایران پر نئی پابندیوں اور روسی تیل خریدنے والے ممالک پر بھاری ٹیرف سے متعلق بل منظور کرلیا۔
رائٹرز کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان نے لِنڈسے او گراہم سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026 کو 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کیا، جس کے بعد بل حتمی منظوری اور دستخط کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دیا گیا ہے، امریکی سینیٹ پہلے ہی اگست میں یہ بل 11 کے مقابلے میں 86 ووٹوں سے منظور کرچکی ہے۔
بل کے تحت صدر ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس خریدنے والے بڑے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اس اقدام کا مقصد روس کی توانائی کی آمدن کو محدود کرنا ہے جو یوکرین جنگ کے اخراجات کے لیے اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق قانون سازی میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں کے ساتھ ساتھ روسی تیل کی پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے ٹینکرز کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، روسی حکام، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
بل میں ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو بھی توسیع دینے کی شق شامل ہے، امریکی قانون سازی کے تحت ٹرمپ کو روسی توانائی کے بڑے خریدار ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جن میں چین اور بھارت نمایاں ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اگست میں روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں بھارت تقریباً 16 لاکھ بیرل یومیہ کے ساتھ سرفہرست تھا جبکہ چین تقریباً 11 لاکھ بیرل یومیہ روسی خام تیل درآمد کررہا تھا ، اٹلی، ترکیہ اور نیدرلینڈز بھی روسی خام تیل کے اہم خریداروں میں شامل رہے۔
چین اور بھارت پر ممکنہ اثرات
نئے قانون کے تحت روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں سے درآمدات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی گنجائش ہے تاہم یہ اختیار خودکار طور پر ہر ملک پر لاگو ہونے کے بجائے صدر کے فیصلے سے مشروط ہے جبکہ قانون میں قومی مفاد کی بنیاد پر بعض پابندیوں سے استثنیٰ دینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔
امریکی ایوان میں بل کو دو طرفہ حمایت بھی حاصل ہوئی تاہم بعض ڈیموکریٹ ارکان نے صدر کو وسیع تر ٹیرف اختیارات دینے پر اعتراض کیا، ان کا مؤقف تھا کہ اس قانون کے ذریعے امریکی صدر کو اتحادی ممالک سمیت دیگر ممالک کے خلاف وسیع تجارتی اختیارات حاصل ہوسکتے ہیں۔
روس کا ردعمل
روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ اگر امریکا روس پر مزید پابندیاں عائد کرتا ہے تو اس سے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری امن کوششیں مزید مشکل ہوسکتی ہیں۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بل کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے، امریکی قانون سازی کو یوکرین کی جانب سے روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ٹرمپ انتظامیہ نئے اختیارات کو کس حد تک استعمال کرتی ہے۔
بل اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کا منتظر ہے، جس کے بعد اس کے تحت دیے گئے نئے اختیارات فعال ہو جائیں گے۔



