امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران پاکستان کے لیے سکیورٹی معاونت معطل کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے ٹوئٹر (ایکس) پر لکھا تھا ’’امریکا نے گزشتہ 15 برس کے دوران پاکستان کو بے وقوفی سے 33 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دی، اور بدلے میں ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں ملا، وہ ہمارے رہنماؤں کو بے وقوف سمجھتے رہے۔‘‘
یہ بیان اس مقبول بیانیے کا اظہار تھا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مغرب کے ایوانوں میں طویل عرصے سے گونج رہا تھا۔ اس بیانیے کے مطابق پاکستان فرنٹ لائن ریاست اور امریکا کا شراکت دار ہونے کے باوجود ’’سازشی اور دوغلا‘‘ تھا، جو اپنے اتحادیوں کو دھوکا دینے اور اپنے مفادات کے لیے معاہدے کرنے کو تیار رہتا تھا۔ پاکستان کے کردار کو بیان کرنے کے لیے ’چالاک‘ اور ’دھوکے باز‘ جیسے الفاظ بھی عام تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں مغربی مبصرین پاکستان کو ڈبل ایجنٹ قرار دے رہے تھے، وہیں گلوبل ساؤتھ کے نقاد اسے ایک سامراجی پٹھو کے طور پر دیکھ رہے تھے، جو امریکی سیکیورٹی اور حکمتِ عملی کے مفادات کو فروغ دینے اور مضبوط کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتا تھا۔ لیکن یہ دونوں متضاد فیصلے ایک ایسے ملک کی زیادہ پیچیدہ حقیقت پر پردہ ڈالتے ہیں جسے “ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف” کی منطق کے تحت زبردستی اس جنگ میں دھکیلا گیا تھا، جہاں شرکت کے ہر لمحے کے اخراجات حاصل ہونے والے فوائد سے کہیں زیادہ تھے۔

‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ میں افغانستان اور عراق کی مرکزی حیثیت پر بے شمار مضامین اور کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن پاکستانی ریاست، معاشرے اور معیشت پر اس جنگ کے باریک اور طویل مدتی اثرات کے بارے میں نسبتاً کم معلومات موجود ہیں۔ بیشتر تجزیہ کار اور سیاسی حلقے پہلے ہی یہ سمجھ چکے تھے کہ ریاست کو اس جنگ میں شامل ہونے کے بدلے معاوضہ مل چکا ہے، اس لیے کسی نے اس کا باقاعدہ حساب کتاب کرنے کی زحمت نہیں کی۔
تاہم جب اس جنگ کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ صرف اس سرحدی علاقے تک محدود نہیں رہی جہاں لڑی گئی تھی بلکہ اس نے پاکستان کے صحتِ عامہ کے معیار، محصولات کی بنیاد، طاقت کے استعمال پر ریاستی اجارہ داری، شناخت اور سرحدی نگرانی کے نظام، اور ملک میں پیسے کی نقل و حرکت کے طریقہ کار تک کو بدل دیا۔ ان تبدیلیوں کو کبھی جنگ کی لاگت میں شمار نہیں کیا گیا لیکن ملک اب بھی بغیر کسی اعتراف کے خاموشی سے ان کا تاوان ادا کر رہا ہے۔
شاید اس کی سب سے واضح مثال ملک میں ہونے والے فوجی آپریشنز کے اثرات ہیں۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی مغربی سرحد پر ہونے والے ڈرون حملوں اور فوجی کارروائیوں کے اثرات پر تحقیق اور مطالعے میں ان کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں امریکا نے پاکستانی ریاست اور فوج کی کم از کم خاموش رضامندی سے کیں۔
بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم کے مطابق 2010 سے 2020 کے درمیان تقریباً 430 ڈرون حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 25 سو 15 اور زیادہ سے زیادہ 4 ہزار 21 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں کم از کم 424 اور زیادہ سے زیادے 969 عام شہری شامل تھے، جن میں کم از کم 172 اور زیادہ سے زیادہ 207 بچے بھی تھے۔ اس خطے میں فوجی کارروائیوں اور بمباری کے نتیجے میں تقریباً 50 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔

پاکستانی ریاست بھی اس نقصان میں کئی اعتبار سے شریک تھی، کیونکہ اس نے ملک کے دور دراز علاقوں کے ساتھ اپنے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کیا اور ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کی ایک انتہائی پیچیدہ منطق کو مستحکم کیا۔یعنی ریاستیں ایسی شرائط کے تحت اپنے ہی لوگوں کے خلاف جنگ لڑ رہی تھیں جو ان کی اپنی طے کردہ نہیں تھیں۔
مزید یہ کہ ڈرون حملے اور فوجی آپریشنز جنگ کی لاگت کی صرف ایک محدود تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ جنگ کے براہِ راست اثرات تو دکھاتے ہیں، لیکن ان کے دوسرے اور تیسرے درجے کے وہ اثرات سامنے نہیں آتے جو محسوس کرنا مشکل ہوتے ہیں، مگر نقصان کے اعتبار سے اتنے ہی سنگین ہو سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کے خاندان کے افراد سے ڈی این اے حاصل کرنے اور ایبٹ آباد میں اس کی موجودگی کی تصدیق کے لیے جعلی ویکسینیشن مہم کا استعمال کیا تو ویکسینیشن مہمات پر عوامی اعتماد متاثر ہوا۔ طبی عملے کو ملک سے نکالا گیا اور قتل بھی کیا گیا، جس کے نتیجے میں طبی سہولیات تک رسائی مزید کم ہوگئی۔
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 2012 سے اب تک پولیو مہمات پر ہونے والے حملوں میں 96 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر پولیس اہلکار اور صحت کے کارکن شامل تھے۔ پاکستان اور افغانستان آج دنیا کے وہ آخری دو ممالک ہیں جہاں وائلڈ پولیو وائرس اب بھی وبائی سطح پر موجود ہے۔دوسرے لفظوں میں ایک واحد فرد کی گرفتاری اور قتل کا مشن جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اہم فوجی کارروائیوں میں سے ایک تھا، 15 سال بعد بھی پاکستانی بچوں کو اپاہج بنا رہا ہے۔
مالی قیمت
پاکستان کے لیے جنگ کی سب سے بڑی قیمت مالی تھی اور ریاست کی جانب سے اس کا کیا گیا حساب اس بات کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے کہ ان اخراجات کو کبھی باقاعدہ طور پر جنگ کی لاگت کیوں نہیں سمجھا گیا۔
پاکستان اکنامک سروے کے 2018 کے ایک علیحدہ سالانہ ضمیمے میں جنگ کی لاگت 127 ارب ڈالر بتائی گئی۔ سروے کے مطابق اس لاگت میں سب سے بڑا حصہ ٹیکس وصولیوں میں ہونے والے نقصان کا تھا۔
اس نقصان کے اثرات صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہیں۔ پاکستان کے مالیاتی نظام کی مشکلات سے واقف افراد جانتے ہیں کہ ٹیکس وصولیوں میں اتنی بڑی کمی معیشت کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے کیونکہ اس سے ریاست اور معاشرے کے درمیان پہلے سے ہی کمزور تعلق مزید متاثر ہوتا ہے۔ ملکی معیشت کی بڑی خامیوں میں جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس وصولیوں کی کم شرح بھی شامل ہے اور ’دہشت گردی کےخلاف جنگ‘ نے اس مسئلے کو مزید سنگین کر دیا۔

جنگ کے دوران پاکستان کو امریکا سے ملنے والی مالی معاونت بھی اس بھاری لاگت کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو جنگ میں کردار کے عوض 33.4 ارب ڈالر ملے، لیکن اس میں سے صرف تقریباً 19 ارب ڈالر ایسی معاونت تھی جسے عام معنوں میں امداد کہا جا سکتا ہے جبکہ اس میں سے بھی 15 ارب ڈالر سے بھی کم رقم حقیقت میں جاری کی گئی۔ باقی رقم کولیشن سپورٹ فنڈ کے ذریعے آئی، جو امداد نہیں بلکہ پاکستانی ریاست اور فوج کی جانب سے فراہم کی جانے والی مخصوص خدمات کی براہِ راست ادائیگی تھی۔ ان خدمات میں افغانستان کے ساتھ دشوار گزار سرحد پر ایک لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، براہِ راست فوجی کارروائیاں، زمینی لاجسٹکس، بندرگاہوں اور فوجی اڈوں کا استعمال شامل تھا۔
امریکا نے ’دہشت گردی کے خلف جنگ‘ پر 8 کھرب ڈالر سے زائد خرچ کیے جبکہ پاکستان کو اس مجموعی رقم کا محض 0.41 فیصد ملا۔
جنگ کے دوران امریکا اور پاکستان کے مالی تعلقات کا قریب سے جائزہ لینے سے پاکستان کے ایک ناقابلِ اعتماد اتحادی اور شراکت دار ہونے کے بارے میں رائج بیانیے اور حقیقت کے درمیان گہرا تضاد سامنے آتا ہے۔ پاکستان پر اکثر جنگ سے مالی فائدہ اٹھانے یا تشدد کے عوض معاوضہ حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگایا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی جغرافیائی حیثیت کو زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کبھی پوری طرح استعمال ہی نہیں کیا۔
نیٹو سپلائی کا معاملہ
اس کی سب سے واضح مثال ٹرانزٹ ہے۔ افغانستان میں داخل ہونے والے ہر ٹرک سے فیس وصول کرنا پاکستان کے لیے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا تھا لیکن جنگ کے پہلے 11 برسوں تک اس انتظام کو منظم کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں تھا اور پاکستانی ریاست براہِ راست کوئی فیس بھی وصول نہیں کرتی تھی۔
یہ صورت حال 2011 میں ایک ایسے واقعے کے بعد تبدیل ہوئی جب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر نے غلطی سے 24 پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا۔ اس واقعے کے بعد پارلیمنٹ نے ہر ٹرک سے فیس وصول کرنے پر زور دیا۔
اس معاملے پر کئی ماہ تک مذاکرات ہوتے رہے اور اس دوران پاکستان کے راستے نیٹو سامان کی ترسیل روک دی گئی۔ اندازہ لگایا گیا کہ متبادل راستہ اختیار کرنے پر امریکا کو ہر ماہ 10 کروڑ ڈالر اضافی خرچ ہو رہے تھے۔

امریکی لاجسٹکس اور سپلائی روٹس پر اس بھاری اضافی لاگت کے باوجود کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ امریکا نے پاکستان کو دیگر ادائیگیاں روک دیں اور یوں پاکستان پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہا کہ وہ دوبارہ اسی پرانے انتظام پر واپس آ جائے جس کے تحت کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی تھی۔
سپلائی ٹرکوں کو پاکستان سے گزرنے کی اجازت دینے کی بھی پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑی۔ اس کا بڑا حصہ ان سپلائی روٹس میں ہونے والی خوردبرد اور غیر قانونی ترسیل سے متعلق تھا، جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹیں بغیر ٹیکس ادا کیے آنے والے غیر قانونی سامان سے بھر گئیں۔
معاشرتی امور کے ماہر عدیم سہیل کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہونے والی وہ بدنام زمانہ گینگ وار، جسے بالی ووڈ فلم ’دھرندھر‘ میں دکھایا گیا، ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کا ہی براہ راست نتیجہ تھی۔ ان کے مطابق امریکا نے سپلائی روٹس کو محفوظ رکھنے کے لیے اخراجات میں اضافہ کیے بغیر بالواسطہ طور پر ایسے نجی تشدد کے منتظمین کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کی، جو انتہائی کم لاگت پر ان راستوں کی حفاظت کا کام سنبھال سکتے تھے۔
ٹرانزٹ اور سپلائی روٹس نے شہری تشدد کو زیادہ براہِ راست انداز میں بھی متاثر کیا، کیونکہ افغانستان کے لیے بھیجے گئے امریکا کے تیار کردہ بہت سے ہتھیار پاکستانی مارکیٹوں اور شہری علاقوں تک پہنچ گئے۔

مثال کے طور پر ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں پاکستان کے اندر دہشت گرد گروہوں سے برآمد ہونے والی 63 اسالٹ رائفلز کے سیریل نمبرز کا سراغ لگایا گیا اور معلوم ہوا کہ یہ ہتھیار نیٹو کے سپلائی ٹرکوں کے ذریعے پاکستان پہنچے تھے۔
افغانستان سے امریکا کا عجلت میں اور غیر منظم انخلا، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں ہتھیار اور فوجی سازوسامان طالبان حکومت کے ہاتھ لگ گیا، صورت حال کو مزید خراب کر چکا ہے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حالیہ پرتشدد حملوں میں اضافے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں امریکا کے اتحادی افواج کو فراہم کیے گئے مجموعی ہتھیاروں میں سے کم از کم 40 فیصد سرحد پار پہنچ گیا۔ سال2010 میں کابل جانے والا نیٹو کا ایک ٹرک پاکستان کے اندر تباہ حال اور خالی ملا۔ اس کے بعد ہونے والی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ صرف اسی سال افغانستان کے لیے مختص تقریباً 3 ہزار ٹرک کراچی سے آگے گئے ہی نہیں۔
اسمگلنگ نیٹ ورکس نے نیٹو کے سامان کی آڑ میں اشیا کو مناسب جانچ پڑتال یا کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر منتقل کیا۔ ایک اور اندازے کے مطابق 2007 سے 2010 کے درمیان پاکستان میں کم از کم7 ہزار 922 ٹرانزٹ کنٹینرز سے سامان چوری کیا گیا۔
یہ مثال تضاد سے بھرپور ہے۔ وہی راستہ جس کا مقصد پورے خطے میں سکیورٹی قائم کرنا تھا، اسی سکیورٹی کو کمزور کرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ یہ ایک اور مثال ہے کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے لیے بنائے گئے نظام اور انفرااسٹرکچر نے پاکستان میں ایسے منفی اثرات پیدا کیے جن کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔

جنگ کے طویل مدتی اثرات
’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنے اور بیان کرنے کی ایک بڑی مشکل یہ خواہش ہے کہ اسے ایک واحد واقعے یا تاریخ کے ایک مختلف دور کے طور پر دیکھا جائے تاکہ ایک وسیع اور پیچیدہ جنگ کو قابل فہم، مختصر اور مؤثر بیانیے میں سمویا جاسکے۔ لیکن ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو اس انداز میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس نے دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو ذاتی، مقامی، قومی اور علاقائی سطح پر مختلف اور غیر مساوی انداز میں متاثر کیا۔
پاکستان کے لیے بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ ریاست اور معاشرے کو اس جنگ کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے اور وہ آج بھی یہ تاوان ادا کر رہے ہیں۔ ایک طرف اگر اس جنگ نے ملک کے پہلے سے موجود دیرینہ مسائل کو مزید سنگین بنایا تو دوسری طرف کئی نئے چیلنجز کو بھی جنم دیا۔ تاہم اس جنگ کے متعدد اثرات اب بھی پوشیدہ ہیں اور ان کی تلخ حقیقتیں منظرِ عام پر آنا باقی ہیں۔
