وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ کا خطرہ اب بھی موجود ہے، جنگوں میں نقصان اٹھانے والے ممالک بدلہ لینے کی تاک میں رہتے ہیں، تاہم بھارت اب براہ راست پاکستان کو چیلنج کرنے کی جرات نہیں کرسکتا۔
ہم نیوز کے پوڈ کاسٹ میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے بھارت کو ایسا جواب دیا جسے پوری دنیا نے دیکھا، پاک افواج عوام کی توقعات پر پوری اتریں اور پاکستان کی فتح اتنی واضح تھی کہ پاکستانی اور عالمی میڈیا ایک ہی بات کررہے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاک بھارت حالیہ جنگ کے بعد بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، بھارت اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان پر حملہ آور ہے، تاہم پاکستان یہ جنگ جیتے گا۔
پاکستان نے بھارت کے 7 جنگی طیارے گرائے، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے کہا کہ 7 مئی کو بھارتی فضائی حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے ردعمل میں حکمت عملی اختیار کی گئی، قوم کی توقعات پر پاک فوج پوری اتری اور اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو فتح عطا کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں بھارت کے 7 جنگی طیارے گرائے گئے، بھارتی جرنیلوں اور میڈیا کے بعض حلقوں نے بھی طیاروں کے نقصان کو تسلیم کیا جبکہ رافیل بنانے والی کمپنی کی جانب سے بھی اپنے طیاروں کے گرنے کی تصدیق کی گئی۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ میں پاکستان کے بیانیے اور بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ میں کوئی بڑا تضاد نہیں تھا، جبکہ بھارت کے اپنے میڈیا میں بھی شکست کا اعتراف سامنے آیا۔
بھارت نے پاکستان کو چیلنج کیا، اسے توقع نہیں تھی ایسا جواب ملے گا
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے ردعمل کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا اور اسے اس بات کی توقع نہیں تھی کہ اسے اتنی بڑی عسکری اور سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی داستان بن سکتی ہے جس پر پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج پر فخر کرے گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہر دوسرے تیسرے دن واقعات سامنے آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت براہ راست پاکستان کو چیلنج کرنے کی جرات نہیں کرتا، اس لیے پراکسیز کے ذریعے جنگ جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت مختلف گروہ شامل ہیں۔
بلوچستان میں بی ایل اے کو بہت زیادہ سپورٹ مل رہی ہے
خواجہ آصف نے کہا کہ ٹی ٹی پی کو بھارت کی حمایت حاصل ہے، تاہم بی ایل اے کو جس قدر حمایت مل رہی ہے وہ بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا طویل ساحل موجود ہے جسے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ خطے کے بعض ممالک میں بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کی موجودگی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم پاکستان اس جنگ میں کامیاب ہوگا۔
آزاد کشمیر کے واقعات میں بھی بھارت کے ملوث ہونے کا دعویٰ
خواجہ آصف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حالیہ واقعات میں بھی بھارت بالواسطہ طور پر ملوث رہا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان میں سیاسی، انتظامی یا حکومتی معاملات پر اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ریاست کو متنازع بنانے کی کوشش قابل قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہونے والے احتجاج کے دوران استعمال ہونے والی بعض زبان اور بیانیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک کم شدت کی غیر اعلانیہ جنگ کا پہلو موجود ہے۔
برطانیہ میں کشمیر سے متعلق سرگرمیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
وزیر دفاع نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر برطانیہ میں ہونے والی بعض سرگرمیوں کا معاملہ بھی اہم ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ کی ذمہ داری ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف سازش یا سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ کشمیر سے متعلق سرگرمیوں میں بڑی مقدار میں پیسہ خرچ کیا گیا اور پاکستان میں بھی رقم آنے کی بات سامنے آئی ہے۔
ماضی کی پالیسیوں کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان آج 1970 اور 1980 کی دہائی کی پالیسیوں کے نتائج بھگت رہا ہے۔
ان کے مطابق سوال یہ ہے کہ پاکستان کا کیا کام تھا کہ 70 کی دہائی میں افغان شہریوں کو یہاں لاتا، پھر 80 کی دہائی میں روس کے خلاف امریکا کی جنگ میں شامل ہوتا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جن لوگوں نے یہاں جنگیں لڑنی تھیں وہ اسلحہ چھوڑ کر چلے گئے، دہشت گرد بھی یہاں چھوڑ گئے اور پاکستان اب اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کے لیے امریکا کی چوکیداری کی، ماضی میں غلط پالیسیاں بنانے والے لوگ قومی مجرم ہیں۔
مسلح گروہوں کی ضرورت نہیں، پاکستان کے پاس مضبوط فوج موجود ہے
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو کسی مسلح گروہ یا ملیشیا کی ضرورت نہیں، ملک کی فوج اپنی دفاعی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 40، 50 برس کی تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ریاست نے جن مسلح گروہوں کو کھڑا کیا، وہ بعد میں ریاست کے خلاف ہی ہوگئے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ عبدالستار ایدھی اور سیلانی جیسی فلاحی تنظیمیں عوامی خدمت کر رہی ہیں اور انہیں ہتھیار اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑی۔
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی تعاون پر اہم پیش رفت
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ استنبول میں ہونے والی ملاقات تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی معاہدے کے تحت تمام پلان اگلے چند ہفتوں میں مکمل ہوجائیں گے جبکہ اکتوبر میں مکہ معاہدے کے تحت سیکریٹریٹ بھی قائم ہوجائے گا۔
ان کے مطابق تینوں ممالک کی پالیسی آئندہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں واضح ہوجائے گی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کے امیج میں اضافہ ہوا ہے اور ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے باہر نکل آیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی بہت زیادہ معاشی بہتری نہیں آئی، تاہم ملک نے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔
اسرائیل سے متعلق ٹویٹ، خواجہ آصف نے ٹویٹ ہٹانے کی وجہ بتا دی
انٹرویو میں خواجہ آصف نے اسرائیل کو ’انسانیت کے لیے لعنت‘ اور ’کینسر ریاست‘ قرار دینے والی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کا بھی دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پوری دنیا کے سامنے ریئل ٹائم میں دیکھا جا رہا ہے اور وہ فلسطینیوں کے حق میں اپنی آواز آج بھی بلند کرتے ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق انہوں نے مذکورہ ٹویٹ اس لیے ہٹایا کیونکہ اس وقت پاکستان ایک ثالث اور صلح کار کا کردار ادا کر رہا تھا اور وزیر دفاع کی حیثیت سے ان کی ایک سرکاری پوزیشن بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹویٹ ہٹانے کے باوجود پاکستان کا ثالثی اور امن کے پیغام کے طور پر کردار مزید نمایاں ہوا۔
نئے انتظامی یونٹس کی حمایت، صوبوں کے بجائے وفاقی انتظامی یونٹس کی اصطلاح
ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ وہ ’’صوبوں‘‘ کے بجائے ’’وفاقی انتظامی یونٹس‘‘ کی اصطلاح کو زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کا مقصد اختیارات کو نچلی ترین سطح تک منتقل کرنا ہے، تاکہ عام شہری کو اپنے گاؤں، قصبے، تحصیل اور شہر کی سطح پر بااختیار بنایا جا سکے۔
ان کے مطابق اختیارات کی حقیقی منتقلی سے ریاست مضبوط اور طرز حکمرانی بہتر ہوگا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہونا چاہیے اور آئین میں موجود اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر عمل درآمد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک اصول پنجاب میں لاگو ہوتا ہے تو وہی سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی ہونا چاہیے، کیونکہ پاکستان ایک وفاق ہے۔
عمران خان کی رہائی پر قیاس آرائی نہیں کر سکتا، خواجہ آصف
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آئندہ چھ ماہ میں رہائی کے سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ یہ قانونی معاملہ ہے اور وہ اس پر قیاس آرائی نہیں کریں گے۔
تاہم انہوں نے پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں پارٹی میں زیادہ تر لوگ چاہتے ہیں کہ عمران خان اندر ہی رہیں۔
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے باہمی اختلافات اور بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی حرکات کسی رہنما کی رہائی کے لیے مؤثر کوششیں نہیں دکھائی دیتیں۔
9 مئی اور سیاسی کشیدگی، مسائل کا حل مذاکرات سے ہوگا
وزیر دفاع نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق کہا کہ یہ عدالتی معاملہ ہے اور سیاسی مسائل گن پوائنٹ کے ذریعے حل نہیں ہوتے۔
ان کے مطابق سیاسی معاملات مذاکرات اور حالات کی حقیقت کو قبول کرنے سے حل ہوتے ہیں۔
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والی زبان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ریاستی نظام کو تباہ کرنے کی سوچ قابل قبول نہیں۔
زیک گولڈ اسمتھ کے عمران خان سے متعلق خط پر خواجہ آصف کا ردعمل
عمران خان کے حوالے سے کامن ویلتھ کو زیک گولڈ اسمتھ کے خط پر خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ فلسطینیوں کے بارے میں بھی ایسی ہی آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی۔
انہوں نے زیک گولڈ اسمتھ کو صہیونیت کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایک شخص کے معاملے پر تشویش ظاہر کی جاتی ہے لیکن فلسطینیوں کے لیے ایسی آواز نظر نہیں آتی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے اسرائیل کو پہلے دن سے تسلیم نہیں کیا۔



