اسلام آباد: پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک سانحے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں فائر سیفٹی اقدامات سخت کردیے گئے ہیں۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر اسلام آباد میں 5 عمارتیں سیل کردی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سیل کی جانے والی عمارتوں میں شہید ملت سیکرٹریٹ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ اور ٹی ڈی اے پی بلڈنگ شامل ہیں۔ سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد بھر میں مختلف عمارتوں کے فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ اور معائنہ جاری ہے۔
فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر کیپیٹل ہسپتال، پولی کلینک اور پمز اسپتال کو بھی 5،5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
سی ڈی اے کی جانب سے عمارتوں میں فائر فائٹنگ آلات، ہنگامی اخراج کے راستوں، فائر الارم سسٹم اور انخلا کے انتظامات کی جانچ کی جا رہی ہے۔ متعلقہ عمارتوں کے مالکان اور انتظامیہ کو فائر سیفٹی سے متعلق تمام ضروری اقدامات فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سی ڈی اے نے خبردار کیا ہے کہ فائر سیفٹی قوانین پر مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
پمز سانحے کے بعد فائر سیفٹی کی جانچ تیز
اسلام آباد میں فائر سیفٹی اقدامات کا دائرہ اس وقت وسیع کیا گیا ہے جب چند روز قبل پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔
26 اگست کو پمز کے زچہ و بچہ مرکز کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں آگ لگی تھی۔ اس وقت وارڈ میں نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو زندہ بچایا جاسکا۔ ابتدائی اطلاعات میں ایئر کنڈیشننگ یونٹ سے متعلق خرابی یا دھماکے کو ممکنہ وجہ بتایا گیا، جبکہ وارڈ میں موجود زیادہ آکسیجن نے آگ کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرنے کا امکان بھی سامنے آیا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق متاثرہ نرسری میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم سمیت فائر سیفٹی کے اہم انتظامات کی کمی کی نشاندہی ہوئی، جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار اور نگرانی سے متعلق بھی سوالات اٹھے۔ سانحے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقات کا حکم دیا اور متعدد سرکاری افسران کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔



