سپریم کورٹ میں عمران خان اسپتال منتقلی کیس کی سماعت جاری ہے۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل منصورعثمان کو فوری طلب کرلیا جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے کیس لے لیا ہے،اس حوالے سے حکم بھی آچکا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دئیے کہ وفاقی آئینی عدالت کا حکم پڑھیں جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے گزشتہ روز کا حکمنامہ پڑھا۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا اٹارنی جنرل دفتر میں موجود ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی اٹارنی جنرل موجود ہیں جس پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ پھر اٹارنی جنرل کو بلائیں۔
بعدازاں ججز کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے جس کے بعد کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔مختصر وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوگئی،اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوگئے۔
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت کے سوالات پر کوئی بات نہیں کروں گا صرف عدالتی دائرہ اختیار کے نکتے پر معاونت کروں گا ،یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دئیے کہ ملک میں آئین، قانون اور قرآن کریم سے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، قرآن اور سنت کی روشنی میں کئے گئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی آئینی عدالت پابند نہیں ہوگی؟
اٹارنی جنرل نے کہا فیصلوں کے اطلاق سے متعلق آرٹیکل 189 واضح ہے جس پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ آئینی عدالت قرآن و سنت کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی،آئینی عدالت صرف آئین کی تشریح کر سکتی ہے،آئین کی تشریح کے علاوہ تمام معاملات سپریم کورٹ کے پاس ہیں۔
اٹارنی جنرل نے دلائل دئیے کہ سپریم کورٹ کا شریعت بنچ قرآن و سنت کی تشریح کر سکتا ہے جس پر جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا عدالت آج درخواستیں خارج کر دے یا سماعت نہ کرے؟کیا ہم آئینی عدالت کے حکم کے پابند ہیں؟
اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بات کا تعین ہونا ہے کہ آئینی عدالت کہاں کہاں سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔مناسب ہوگا عدالت کیس پر سماعت موخر کر دے۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہوا تھا،سرکاری افسران میں سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے،اعتماد اور روابط کا شدید فقدان چل رہا ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ سرکاری افسران کو آج پیش ہونا چاہیے تھا، جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ کیا جیل سپریٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کر دیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا کہ ایک موقع دیدیں،افسران شاید سمجھیں ہوں کہ آج سماعت ہی نہیں ہوگی۔
جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ نظرثانی درخواست میں حکومت نے لکھا ہے کہ نجی ہسپتال میں علاج نہیں ہوسکتا،سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر ریکارڈ فراہم کر دیا ہے۔
مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں
وفاقی آئینی عدالت کی گزشتہ روز ہونے والی سماعت کا احوال
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 3 قیدیوں کو نجی اسپتال منتقل کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیس کا ریکارڈ بھی منگوا لے، آرٹیکل 175 ای کی ذیلی شق 5 کے تحت آئینی عدالت آئینی تشریح کے سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر برابر ہونا چاہیے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا، سپریم کورٹ نے ہمیں نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہیے تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل ایسے ہی ہے، آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا کیس تو فوجداری نوعیت کا ہے، ہمارے پاس کیس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف آیا ہے، سپریم کورٹ کا حکم تو ابھی عبوری ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اصل سوال تو اختیار سماعت کا ہے، سوال یہ ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق کا کیس اب کون سن سکتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفاء اسپتال منتقلی کے ریکارڈ سمیت دیگر ہائیکورٹس میں بھی اس نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ہائیکورٹ میں اس نوعیت کا کوئی بھی کیس زیرالتوا ہو تو اس کا ریکارڈ بھی بھجوایا جائے۔
عدالت نے رجسٹرار کو تمام مقدمات منگوانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کے اٹھائے گئے نکات قابل غور ہیں۔بعد ازاں آئینی عدالت نے 3 قیدیوں کی درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
تحریری حکمنامے میں کیا کہا گیا؟
وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی اور جیل ملاقاتوں سے متعلق مقدمات سمیت مختلف کیسز سپریم کورٹ سے آئینی عدالت منتقل کرنے کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔
تحریری حکمنامے کے مطابق آفس رجسٹرار کے ذریعے سپریم کورٹ سے متعلقہ مقدمات کا ریکارڈ منگوایا جائے اور مقدمات کا ریکارڈ آئینی عدالت کو منتقل ہونے کے بعد انہیں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
عدالت نے سلمان اکرم راجہ اور مشعال یوسفزئی کی جانب سے دائر درخواستیں بھی آئینی عدالت منتقل کرنے کی ہدایت کردی جبکہ جیل میں ملاقاتوں سے متعلق دائر درخواستیں بھی سپریم کورٹ سے منگوا لی گئی ہیں۔



