اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی احتجاج سے متعلق شہری کی درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈرکواسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں، صوبوں کے وزرائےاعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری سیاسی احتجاج میں استعمال نہ ہو۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ کوئی سرکاری افسراحتجاج یاریلی پرزبردستی مجبورکرنے والےحکم پرعملدرآمد نہ کرے، مجبورکیے جانے پرافسرفوری طورپرچیف سیکریٹری، چیف کمشنریا آئی جی کو آگاہ کرے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے ہدایت دی کہ سرکاری افسرماتحت اہلکاروں کواسلام آباد آنے والےمارچ یااحتجاج میں شامل نہ ہونے دیں، صوبوں کےچیف سیکریٹریز، چیف کمشنراسلام آباد اورآئی جیز فوری ہیلپ لائن قائم کریں۔
آج سماعت میں کیا ہوا؟
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی 3 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک، پراسیکیوٹر جنرل منظور ججہ، آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا کے بیانات حلفی عدالت میں جمع کرائے گئے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی عدالت میں موجود رہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیئے کہ ویڈیوز چلانا اس عدالت کی روایت نہیں تاہم بعد میں پی ٹی آئی کے 2024 احتجاج کی ویڈیوز چلانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو ویڈیوز چلانے کی ایک بار کی اجازت دیتے ہیں، جس پر پی ٹی آئی کے 2022 اور 2024 احتجاج کی ویڈیوز عدالت میں چلا دی گئیں۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک کا کہنا تھا کہ 2022 کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال کی گئی، اسلام آباد انتظامیہ نے انتظامات کیے اورانہیں کرین سے ہٹایا گیا۔
ایڈووکیٹ جنرل نے مزید کہا کہ ڈی چوک میں آگ لگا کر سب کچھ تباہ کر دیا گیا، 2024 میں بھی یہی کچھ کیا گیا اور اسلام آباد پر حملہ کیا گیا، رینجرز اہلکاروں کو گاڑی سے کچل دیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق قانون موجود ہے، جو احتجاج کرے گا وہ تفصیل دے گا تاکہ سکیورٹی انتظامات کیے جا سکیں، مجسٹریٹ کے پاس اختیار ہے کہ وہ اجازت کی درخواست مسترد کر سکتا ہے، قانون میں لکھ دیا گیا ہے کہ کوئی بھی احتجاج مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر نہیں ہو گا۔
لانگ مارچ کا مقصد سزا یافتہ قیدی کی رہائی اور حکومت گرانا ہے، ایڈووکیٹ جنرل
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت عالیہ کو مزید بتایا کہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ایریا کو ریڈزون قرار دے سکتی ہے، اس لانگ مارچ کا ایک مقصد سزا یافتہ قیدی کی رہائی اور دوسرا حکومت گرانا ہے، پی ٹی آئی کے دونوں مطالبے غیر آئینی ہیں، اگر آپ چوک چوراہوں پر حکومت گرانا چاہتے ہیں تو پھر رول آف لاء کی بات نہ کریں، ہم تو صرف انتظامات کر سکتے ہیں کہ دفعہ 144 لگا دیں، اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے، اقدامات کرنا ہوں گے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ کیا حکومتی عہدیدار اس طرح کے بیانات دے سکتے ہیں؟ کیا وزیراعلیٰ، ایم پی اے یا ایم این اے ایسے بیانات دے سکتے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ نہیں، وزیراعلیٰ،ایم پی اے یاایم این اے ایسے بیانات نہیں دے سکتے، پرامن احتجاج کا حق ضرور ہے مگر کچھ شرائط بھی ہیں، عدالت اپنا کردار ادا کرے اور ہدایات جاری کرے، آزادی اظہار رائے کا حق ہے لیکن باقی حقوق بھی قانون کے تابع ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا حکومتی نمائندوں کو بھی اس طرح کی اشتعال انگیز تقاریر کا حق ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اشتعال انگیز تقریر کا تو کسی کو حق نہیں نہ آئین اجازت دیتا ہے۔
بعد ازاں عدالت نے انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا کو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنا بیان حلفی پڑھیں، جس پر آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے اپنا عدالت میں جمع کرایا گیا بیان حلفی پڑھا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر کوئی غیر آئینی اقدام ہوتا ہے تو آپ اسے نہیں روکیں گے؟ آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ عدالت نے جو ڈائریکشن دی تھی اس کے مطابق بیان حلفی جمع کروا دیا۔
جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ آپ کو یہ بھی بیان حلفی میں لکھنا چاہیے تھا کہ آپ غیر قانونی اقدام کو روکیں گے، آئی جی نے کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی کام ہوا تو ہم روکیں گے۔
چیف جسٹس نے آئی جی خیبر پختونخوا کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غیر آئینی اجتماع ہوتا ہے تو آپ روکیں گے اور مظاہرین کو منتشر بھی کریں گے۔
بعد ازاں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جسے کچھ دیر وقفے کے بعد جاری کردیا گیا۔



